آپریشن بُنْیَانٌ مَّرْصُوْص میں فیصلہ کامیابی پر شمالی وزیرستان میں یومِ تشکر
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
پاک فوج کی جانب سے بھارت کو آپریشن بُنْیَانٌ مَّرْصُوْص میں فیصلہ کن شکست دینے پر آج شمالی وزیرستان میں یومِ تشکر منایا گیا اور گورنر کاٹیج سے یونس خان اسپورٹس کمپلیکس تک ریلی نکالی گئی۔
ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان محمد یوسف کریم نے کی۔ ریلی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، اسسٹنٹ کمشنر و ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ، پولیس، علما کرام، مشران، تاجر برادری، طلبا اور عام شہریوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیے: آپریشن بُنیان مّرصُوص کی کامیابی، وزیراعظم کا آج ملک بھر میں یوم تشکر منانے کا اعلان
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان محمد یوسف کریم نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے دشمن کے ناپاک ارادوں کو کچل کر رکھ دیا ہے، یہ قوم اپنے محافظوں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار ہے۔
اس موقع پر ملک کی سلامتی، افواج پاکستان کی فتح اور شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن بنیان مرصوص اجتماع ریلی یوم تشکر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آپریشن بنیان مرصوص ریلی یوم تشکر شمالی وزیرستان
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔