پی اے سی سندھ اجلاس، محکمہ صحت سندھ 6 ارب کا آڈٹ ریکارڈ فراہم نہ کرسکا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) سندھ اجلاس میں صوبائی محکمہ صحت 6 ارب کا آڈٹ ریکارڈ فراہم نہ کرسکا۔
کراچی میں چیئرمین نثار کھوڑو کی سربراہی میں پی اے سی کا اجلاس ہوا، جس میں کمیٹی ارکان قاسم سومرو، طحہ احمد، ریحان راجپوت اور سیکریٹری صحت شریک ہوئے۔
اجلاس میں محکمہ صحت سندھ کی سال 2018ء اور 2019ء کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا اور محکمے میں اربوں روپے کی ادویات کی خریداری کے آڈٹ کا حکم دیا گیا۔
پی اے سی سندھ نےآڈٹ کےلیے آڈیٹر جنرل پاکستان کو ٹینکیکل اسٹاف کی فراہمی کی ہدایت کی۔
چیئرمین نثار کھوڑو نے دوران اجلاس استفسار کیا کہ محکمہ صحت میں ادویات کی خریداری کا کیا میکنزم ہے؟
اس پر سیکریٹری صحت نے شرکاء کو بتایا کہ ادویات خریداری کےلیے پروکیورمنٹ کمیٹی سے ٹینڈر کیا جاتا ہے۔
کمیٹی رکن قاسم سومرو نے استفسار کیا کہ محکمہ صحت سندھ نے غیر رجسٹرڈ اور جعلی ادویات کےخلاف کتنی کارروائیاں کی گئیں؟
چیف ڈرگ انسپکٹر نے پی اے سی سندھ کو بتایا کہ کراچی، حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص میں 25 ایف آئی آرز درج کی گئی۔
پی اے سی نے جعلی، غیر رجسٹرڈ ادویات پر میڈیکل اسٹورز کو سیل اور لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ صوبےمیں جعلی، غیر رجسٹرڈ ادویات کےخلاف کریک ڈاؤن تیز کیا جائے۔
پی اے سی سندھ نے صوبائی محکمہ صحت کے ڈرگ انسپکٹرز کی کارکردگی کی انکوائری کا بھی حکم دیا اور 6 ارب روپے کے متعلق آڈٹ کا ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ اجلاس میں محکمہ صحت 6 ارب روپے کا آڈٹ ریکارڈ فراہم نہیں کرسکا، ہدایت کی جاتی ہے کہ 1 ماہ میں محکمہ صحت سندھ آڈٹ ریکارڈ فراہم کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پی اے سی سندھ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔