آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی کے بعد آرمی چیف کا پہلا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے سی ایم ایچ کا دورہ کیا اور معرکۂ حق آپریشن بُنیان مرصوص کے دوران زخمی ہوئے جوانوں اور شہریوں کی عیادت کی۔ایکسپریس نیوز کے مطابق آرمی چیف نے فرداً فرداً تمام زخمی جوانوں سے ملاقات کی اور زخمیوں کی غیر معمولی بہادری اور فرض شناسی کو سراہا۔ آرمی چیف نے افواجِ پاکستان کی جانب سے ان کی مکمل دیکھ بھال، بحالی اور فلاح و بہبود کے عزم کا اعادہ کیا۔
آرمی چیف نے کہا کہ ہمارے شہریوں اور سپاہیوں کی جرأت و قربانی پاکستان کی سلامتی کی بنیاد ہے، پوری قوم اپنی افواج کے ہر سپاہی کے ساتھ یکجہتی میں کھڑی ہے۔آرمی چیف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کوئی بھی دشمنانہ سازش افواجِ پاکستان کے حوصلے اور عزم کو متزلزل نہیں کرسکتی۔آرمی چیف معرکۂ حق / آپریشن بنیان مرصوص کے دوران افواجِ پاکستان کے یکجہتی سے بھرپور اور جرأت مندانہ ردعمل اور پاکستانی قوم کی غیر متزلزل حمایت، ملکی عسکری تاریخ کے ایک ناقابل فراموش باب کی حیثیت رکھتا ہے۔
معرکہ حق میں شہید ہونے والے پاکستانی شہریوں کے ورثا کو 1 کروڑ ، زخمیوں کو 10 سے 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: رمی چیف نے ا رمی چیف
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔