پاک فوج نے جو کام کیا ہے اس سے پوری دنیا میں پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہوا ہے، سعید غنی
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
لاڑکانہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہماری پاک فوج نے نہ صرف بھارت کا گھمنڈ خاک میں ملا دیا بلکہ پورے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا ہے اور پوری قوم کو آج یہ اطمینان ہے کہ آج ہم بہت محفوظ ہیں اور ہماری پاک افواج ہماری سرحدوں کی بھی حفاظت کررہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ بھارت کی غنڈہ گردی، بدمعاشی اور جنگی جنونیت کے بعد پاک فوج نے جو کام کیا ہے اس سے پوری دنیا میں پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہوا ہے، اس سال کے بجٹ میں ہمارے پاس اتنی گنجائش موجود ہوگی کہ ہم بجٹ میں نئی اسکیموں کو شامل کرسکیں، سندھ میں بیروزگاری کے خاتمے کے لئے عدالتی اسٹے کے خاتمہ کے بعد دوبارہ سے ملازمتوں کے لئے آئی بی اے سکھر کے ذریعے ٹیسٹ کا انعقاد جلد کیا جارہا ہے اور گزشتہ جو امیدوار ٹیسٹ میں کامیاب ہوئے تھے ان کے ٹیسٹ دوبارہ نہیں ہوں گے بلکہ وہ کامیاب ہی تصور ہوں گے، اس وقت ملک میں پانی کی کمی کا سامنا ہے البتہ صوبہ سندھ کیونکہ بالکل آخری سرے پر ہے اس لئے یہاں زیادہ کمی کا سامنا ہے، تاہم ہم دستیاب پانی کی منصفانہ تقسیم کرکے کم سے کم نقصانات ہوں اس پر گامزن ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے لاڑکانہ کے دورے کے موقع پر آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ اہم اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ارکان سندھ اسمبلی سہیل انور سیال، جمیل سومرو، مئیر لاڑکانہ، منتخب چئرمینز، ڈپٹی کمیشنر لاڑکانہ، محکمہ بلدیات کے افسران و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
سعید غنی نے کہا کہ بھارت کی غنڈہ گردی، بدمعاشی اور جنگی جنونیت کے بعد پاک فوج نے جو کام کیا ہے اس سے پوری دنیا میں پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔ پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک نیوی کا سر فخر سے بلند ہوا ہے، جس کی مثال پوری دنیا میں کہی نہیں ملتی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جس کو یہ گھمنڈ تھا کہ وہ دنیا کا طاقتور ترین ملک ہے اور شاید وہ اپنے آپ کو سپر پاور سمجھنے لگا تھا اور اس نے اپنی ڈیفنس پر بہت خرچہ بھی کیا ہے، لیکن جب وہ میدان میں آیا تو اس کو معلوم ہوگیا کہ پاکستان کی فوج، فضائیہ اور نیوی ان سے زیادہ قابل بھی ہے اور ان سے زیادہ طاقتور اور ٹیکنالوجی سے لیس ہے، ہماری فوج میں بہادری اور صلاحیتیں بھی ان سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہماری پاک فوج نے نہ صرف بھارت کا گھمنڈ خاک میں ملا دیا بلکہ پورے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا ہے اور پوری قوم کو آج یہ اطمینان ہے کہ آج ہم بہت محفوظ ہیں اور ہماری پاک افواج ہماری سرحدوں کی بھی حفاظت کررہی ہیں اور ہمارے ملک میں اگر کوئی حملہ کرے گا تو اس کی بھی حفاظت کرسکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا سر فخر سے بلند ہوا ہے پوری دنیا میں پاک فوج نے ہماری پاک نے کہا کہ کیا ہے ہے اور کے بعد
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔