بھارت کے بزدلانہ ڈرون حملے میں شہید ہونیوالے 8 بہنوں کے اکلوتے بھائی کی دردناک کہانی
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
6 اور 7 مئی 2025 کی شب شروع ہونے والے بھارت کے بزدلانہ حملوں کے نتیجے میں کئی معصوم شہریوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ان شہیدوں میں لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت کا 20 سالہ چپس فروش حیدر علی بھی شامل تھا جس کی شہادت نے کئی آنکھوں کو نم کردیا۔
رپورٹ کے مطابق حیدر علی پی ایس ایل میچ کے دوران راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کے نزدیک لگائے گئے فوڈ سٹال پر چپس اور دیگر کھانے پینے کی اشیاءفروخت کرتا تھا اور اسے یہ سٹال لگائے صرف 3 روز ہی گزرے تھے کہ بزدل دشمن کے حملے نے حیدر علی کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کیلئے بجھا دیا۔
7 مئی کی شب حیدر علی پنڈی سٹیڈیم کے نزدیک واقع فوڈ سٹریٹ میں ایک ریسٹورنٹ کے شیڈ کے نیچے دوسرے مزدوروں کے ساتھ سورہا تھا، صبح 10 بجے کے قریب بھارت کی جانب سے داغے گئے ڈرون حملے نے حیدر علی کی جان لے لی۔
رپورٹ کے مطابق ڈرون حیدر علی سے آٹکرایا جس کے بعد دھماکا ہوا اور ریسٹورنٹ کے شیشوں سمیت شیڈ بھی گرگیا ، حملے کے دوران حیدر علی سمیت دیگر شہریوں کو شدید چوٹیں آئیں تاہم حیدر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بینظیر بھٹو شہید ہسپتال میں دم توڑ گیا۔
حیدر علی کے چچا زاد بھائی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’حید ر اپنے گھر کا واحد کفیل تھا جو چند روز پہلے ہی روزگار کی امید میں راولپنڈی گیا تھا لیکن اس کی میت اس کے آبائی شہر پہنچائی گئی جہاں اسے سپرد خاک بھی کیاجاچکا ہے‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: حیدر علی
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔