6 اور 7 مئی 2025 کی شب شروع ہونے والے بھارت کے بزدلانہ حملوں کے نتیجے میں کئی معصوم شہریوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ان شہیدوں میں لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت کا 20 سالہ چپس فروش حیدر علی بھی شامل تھا جس کی شہادت نے کئی آنکھوں کو نم کردیا۔

رپورٹ کے مطابق حیدر علی پی ایس ایل میچ کے دوران راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کے نزدیک لگائے گئے فوڈ سٹال پر چپس اور دیگر کھانے پینے کی اشیاءفروخت کرتا تھا اور اسے یہ سٹال لگائے صرف 3 روز ہی گزرے تھے کہ بزدل دشمن کے حملے نے حیدر علی کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کیلئے بجھا دیا۔

7 مئی کی شب حیدر علی پنڈی سٹیڈیم کے نزدیک واقع فوڈ سٹریٹ میں ایک ریسٹورنٹ کے شیڈ کے نیچے دوسرے مزدوروں کے ساتھ سورہا تھا، صبح 10 بجے کے قریب بھارت کی جانب سے داغے گئے ڈرون حملے نے حیدر علی کی جان لے لی۔

رپورٹ کے مطابق ڈرون حیدر علی سے آٹکرایا جس کے بعد دھماکا ہوا اور ریسٹورنٹ کے شیشوں سمیت شیڈ بھی گرگیا ، حملے کے دوران حیدر علی سمیت دیگر شہریوں کو شدید چوٹیں آئیں تاہم حیدر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بینظیر بھٹو شہید ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

حیدر علی کے چچا زاد بھائی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’حید ر اپنے گھر کا واحد کفیل تھا جو چند روز پہلے ہی روزگار کی امید میں راولپنڈی گیا تھا لیکن اس کی میت اس کے آبائی شہر پہنچائی گئی جہاں اسے سپرد خاک بھی کیاجاچکا ہے‘۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: حیدر علی

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق