آج کے ماحول میں نواز شریف کی ضرورت تھی مگر وہ سامنے نہیں آئے، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج کے ماحول میں نواز شریف کی ضرورت تھی مگر وہ سامنے نہیں آئے، اسٹیبلشمنٹ کو سوچنا ہوگا کہ قومی قیادت کو پس منظر میں پھینک دیا گیا ہے، نواز شریف نے کمپرومائزڈ کیا یا نہیں مگر وہ خاموش ہوگئے ہیں۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان کی رہائی عدالتوں کا معاملہ ہے، لیڈر جیل جاتے ہیں مگر پارٹیاں فیصلے کرتی ہیں، پی ٹی آئی بطور جماعت اختیار رکھتی ہے نہ یکسوئی، ان سے اتحاد کیسے ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں پاک بھارت جنگ کے روز مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کہاں تھے؟
سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ بھارت کے ساتھ مذاکرات میں کشمیر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکے گا، حالیہ کشیدگی میں بھارت جو کئی گنا زیادہ اسلحہ اور فوج رکھنے والا ملک ہے صرف اس کو شکست نہیں ہوئی بلکہ مغربی ٹیکنالوجی جو انڈیا میں استعمال ہوئی وہ بھی پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم کے سامنے ناکام ہوگئی۔
انہوں نے کہاکہ چین کا پاکستان کا دوست ہونے کے ناطے شانہ بشانہ رہنا یہ ایک اچھی مثال ہے اور امریکا کو پیغام ہے کہ آپ کا ایشیائی ممالک کے ساتھ رویہ درست نہیں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اسی طرح مائنز اینڈ منرلز بل کو بھی کوئی نہیں مانے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ بلوچستان میں لاپتا افراد کا مسئلہ حل کرنا ہوگا، جو لوگ زندہ ہیں انہیں عدالتوں میں پیش کریں، اس کے علاوہ مدارس کی رجسٹریشن کا مسئلہ بھی حل کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ بھارت نے اپنی حماقتوں سے پاکستان اور چین کو ایک کرکے اسٹریٹجک پارٹنر بنا دیا ہے
انہوں نے کہاکہ مودی نے پہلگام کے ذریعے ہندوتوا کارڈ کھیلنے کی کوشش کی، اس کا خیال تھا کہ پہلگام واقعے سے ہندوؤں کو اپنی پشت پر کھڑا کرےگا۔
یہ بھی پڑھیں پاک بھارت جنگ بندی کے بعد نواز شریف نے اپنے پیغام میں کیا کہا؟
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہاکہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں دنیا نے سمجھ لیا کہ پاکستان اتنا کمزور نہیں جتنا ہم سمجھ رہے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسٹیبلشمنٹ پاک بھارت کشیدگی پی ٹی آئی اتحاد سربراہ جے یو آئی عمران خان قومی اتفاق رائے مولانا فضل الرحمان نواز شریف وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ پاک بھارت کشیدگی پی ٹی آئی اتحاد سربراہ جے یو ا ئی قومی اتفاق رائے مولانا فضل الرحمان نواز شریف وی نیوز مولانا فضل الرحمان انہوں نے کہاکہ پاک بھارت نواز شریف
پڑھیں:
لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
پنجاب میں بارشوں کے بعد لاہور کے ڈی ایچ اے میں بھی گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہوگیا۔ رابی پیرزادہ نے بھی اپنے گھر کے قریب کھڑے پانی کی ویڈیو بناتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے شکوہ کر ڈالا۔
رابی پیرزادہ نے اپنے فیس بک پیج پر بارش کے بعد کھڑے ہوئے پانی کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس کا کیپشن ’’بارش کے بعد لاہور کی صورت حال اور مریم نواز کا ستھرا پنجاب‘‘ دیا ہے۔ اور ویڈیو پر لکھا ہے ’’مریم نواز صاحبہ، دیکھیں لاہور کے ساتھ کیا ہورہا ہے‘‘۔
رابی پیرزادہ نے وزیراعلیٰ پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’مریم نواز صاحبہ! یہ میں اپنے گھر میں کھڑی ہوں، جو کہ لاہور کے مہنگے ترین علاقے میں آتا ہے، یہ ڈی ایچ اے فیز ون ہے۔ میرے آفس ، میرے اسکول کے اندر بہت نقصان ہوا ہے۔ وہ شعیب صاحب جن سے آپ ساری انفارمیشن لیتی ہیں وہ پتا نہیں کس علاقے میں رہتے ہیں۔ ڈی ایچ اے کا حال بہت خراب ہے۔ مجھے نہیں پتا وہ 960 گاڑیاں کہاں کام کررہی ہیں۔‘‘
https://www.facebook.com/RabiPirzadaMusic/videos/%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%B4-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA-%D8%AD%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%D8%B1%DB%8C%D9%85-%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%D8%A7-%D8%B3%D8%AA%DA%BE%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%A8lahore-rain-suthrapunj/1344354571218376/رابی پیرزادہ نے بارش کے بعد علاقے کی زبوں حالی کا شکوہ کیا۔ بعد ازاں ویڈیو کے کمنٹس میں لکھا ’’یہ ویڈیو ڈی ایچ اے میں ضرور ریکارڈ ہوئی ہے، مگر بارش کے بعد تقریباً پورے لاہور کا یہی حال ہے۔ اس ویڈیو کا مقصد کسی مخصوص علاقے یا ادارے پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ اربابِ اختیار تک عوام کی مشکلات پہنچانا ہے تاکہ بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔‘‘
رابی پیرزادہ کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ تاہم کئی صارفین نے کمنٹ کیا کہ شدید بارش کے بعد پانی کا کھڑا ہونا عام بات ہے، جو کہ فوری نہیں نکالا جاسکتا۔ لیکن چند گھنٹوں بعد پانی کی نکاسی کردی گئی۔