رحیم یار خان، پولیس مقابلے میں دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار، اسلحہ اور موٹر سائیکلیں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
رحیم یار خان:
تھانہ سٹی خان پور کی حدود میں پولیس اور مسلح ملزمان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے، جبکہ ان کا ایک ساتھی موقع سے فرار ہو گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سنگین وارداتوں میں ملوث ریکارڈ یافتہ مجرم ہیں۔
پولیس ترجمان کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مشتبہ افراد کو ناکے پر روکنے کی کوشش کی گئی۔ ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی، جس پر پولیس نے فوری جوابی کارروائی کی۔
فائرنگ کے تبادلے کے دوران دو ملزمان زخمی ہو گئے جنہیں گرفتار کر لیا گیا، جبکہ دیگر ملزمان فرار ہو گئے۔
مزید پڑھیں: رحیم یار خان، پولیس مقابلے میں بین الاضلاعی خطرناک ڈاکو ہلاک، 30 سنگین مقدمات کا ریکارڈ
گرفتار ملزمان کی شناخت حق نواز بلوچ اور یعقوب گھلو کے نام سے ہوئی ہے۔ ترجمان پولیس کے مطابق دونوں ملزمان ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف 30 سے زائد مقدمات مختلف تھانوں میں درج ہیں۔
پولیس نے گرفتار ملزمان کے قبضے سے چوری شدہ موٹر سائیکلیں اور ناجائز اسلحہ بھی برآمد کر لیا ہے۔ زخمی ڈاکوؤں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے ساتھیوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ ڈی پی او عرفان علی سموں نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔