کراچی، ڈکیتی مزاحمت کے دوران فائرنگ سے پولیس اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
پولیس حکام کے مطابق 2 موٹر سائیکلوں پر 3 ملزمان نے واردات انجام دی، مسلح ملزمان پولیس اہلکار کا ذاتی پستول بھی ساتھ لے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں موٹر سائیکل چھیننے کی واردات کے دوران مزاحمت پر مسلح ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شدید زخمی ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق منظور کالونی کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار کندھے کے قریب گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا، جسے فوری طور پر چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمی پولیس اہلکار کی شناخت 38 سالہ ظہیر عباس کے نام سے کی گئی، زخمی پولیس اہلکار درخشاں تھانے میں تعینات ہے۔ ایس ایچ او بلوچ کالونی مظہر کانگو کے مطابق زخمی پولیس اہلکار منظور کالونی کا رہائشی ہے اور زخمی پولیس اہلکار گھر سے کورٹ جانے کیلئے نکلا تھا کہ راستے میں نامعلوم مسلح ملزمان نے اسے روک کر اسلحے کے زور پر اس کی نئی موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کی، جس پر پولیس اہلکار نے مزاحمت کی تو مسلح ملزمان نے فائرنگ کر دی اور موٹر سائیکل چھینے بغیر موقع سے فرار ہوگئے، جبکہ پولیس اہلکار کندھے کے قریب گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔
پولیس اہلکار گھر سے نکلتے وقت پولیس یونیفارم کے اوپر سادہ شرٹ پہنا ہوا تھا، جس کے باعث شاید مسلح ملزمان سمجھے کہ کوئی عام شہری ہے۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی اور پولیس نے جائے وقوع سے سی سی ٹی وی سمیت دیگر شواہد اکٹھا کرکے واقعے میں ملوث ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے، زخمی پولیس اہلکار کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ زخمی پولیس اہلکار نے دو ہفتے قبل ہی نئی موٹر سائیکل خریدی تھی۔ پولیس حکام کے مطابق 2 موٹر سائیکلوں پر 3 ملزمان نے واردات انجام دی، مسلح ملزمان پولیس اہلکار کا ذاتی پستول بھی ساتھ لے گئے۔ پولیس اہلکار ظہیر عباس شادی شدہ اور کچھ سالوں سے کرائے پر رہ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: زخمی پولیس اہلکار موٹر سائیکل کے مطابق
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک