پنجاب پولیس کے اہلکاروں اور اہلخانہ کے علاج کیلئے 28 لاکھ روپے جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
علی ساہی : پنجاب پولیس اپنی فورس اور انکے اہل خانہ کی ہیلتھ ویلفیئر کیلئے پرعزم ہیں ۔ آئی جی پنجاب نے پولیس ملازمین، اہلخانہ کے علاج کیلئے مزید 28 لاکھ 90 ہزارجاری کر دیئے۔
تفصیلات کے مطابق ریٹائرڈ آفس سپرنٹنڈنٹ عبدالغفار کو جگر کے کینسر کے علاج کیلئے 5 لاکھ روپے فنڈز جاری کئے گئے،سکیورٹی کانسٹیبل قیصر مسیح کی میجر سرجری کیلئے 3 لاکھ 50 ہزار روپے دئیے گئے،کانسٹیبل سید افتخار حسین کو بیوی کے بریسٹ کینسر کے علاج کیلئے ڈھائی لاکھ روپے جاری کئے گئے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا امکان
ترجمان پولیس کے مطابق کانسٹیبل تنویر احمد کو میجر سرجری کیلئے اڑھائی روپے فنڈز جاری کیے گئے۔انسپکٹر عبیداللہ خان، شہزاد رسول، ڈرائیور کانسٹیبل ناہید اسلم کو 2 لاکھ روپے فی کس،سب انسپکٹر عطا محمد، اے ایس آئی محسن علی، کانسٹیبل نذیر احمد کو علاج کی مد 1 لاکھ فی کس،جونیئر پٹرولنگ آفیسر علی رضا، کانسٹیبل عابد علی کو علاج کیلئے 1 لاکھ روپے فی کس فنڈز جاری کئے گئے۔
آئی جی پنجاب نے میڈیکل فنانشل اسسٹنس کمیٹی کی سکروٹنی کے بعد فنڈ اجراء کی منظوری دی۔
باجوڑمیں مشیروزیراعظم ورکن قومی اسمبلی مبارک زیب کے گھر کے قریب دھماکا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔