سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ کو بحال کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے گھی اور سٹیل ملز ایسوسی ایشن کی اپیلوں پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس بھی جاری کر دیے ہیں۔

پانچ رکنی آئینی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے، نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے اپیلوں پر مزید سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے۔

واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے قبل ازیں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جس کے خلاف گھی اور سٹیل ملز ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ارجنٹائن کی سپریم کورٹ کے تہہ خانے سے ہٹلر سے متعلق کیا برآمد ہوا؟

ایسوسی ایشن کے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ پارلیمان کے متبادل قانون سازی نہیں کر سکتی اور نہ ہی وہ درخواست میں مانگی گئی استدعا سے بڑھ کر ریلیف دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور قانون سے ہٹ کر چیک دینے کا حکم جاری کیا۔

حافظ احسان کھوکھر نے مزید کہا کہ معاملہ اربوں روپے کے ٹیکس سے متعلق ہے، اور سابقہ فاٹا و پاٹا کے لیے کسٹم کلیئرنس کے وقت آرڈر دینا لازم تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے۔

عدالت عظمیٰ نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے اور معاملے کی آئندہ سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاٹا سپریم کورٹ آف پاکستان سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال فاٹا وکیل حافظ احسان کھوکھر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ آف پاکستان فاٹا پشاور ہائیکورٹ سپریم کورٹ

پڑھیں:

پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار

پشاور:

حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے او پی ڈیز اور آپریشنز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے او پی ڈی کمروں کو تالے بھی لگا دیے۔ ہڑتال کے باعث اسپتال میں مختلف طبی سروسز کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی۔

اس صورتحال کے نتیجے میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اسفندیار نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے وعدے کے مطابق کرپشن کی شفاف تحقیقات کروائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس حوالے سے فوری اقدامات نہ کیے تو صوبے بھر کے تمام اسپتال بند کر دیے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست