سپریم کورٹ نے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ کو بحال کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے گھی اور سٹیل ملز ایسوسی ایشن کی اپیلوں پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس بھی جاری کر دیے ہیں۔
پانچ رکنی آئینی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے، نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے اپیلوں پر مزید سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے۔
واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے قبل ازیں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جس کے خلاف گھی اور سٹیل ملز ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
مزید پڑھیں: ارجنٹائن کی سپریم کورٹ کے تہہ خانے سے ہٹلر سے متعلق کیا برآمد ہوا؟
ایسوسی ایشن کے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ پارلیمان کے متبادل قانون سازی نہیں کر سکتی اور نہ ہی وہ درخواست میں مانگی گئی استدعا سے بڑھ کر ریلیف دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور قانون سے ہٹ کر چیک دینے کا حکم جاری کیا۔
حافظ احسان کھوکھر نے مزید کہا کہ معاملہ اربوں روپے کے ٹیکس سے متعلق ہے، اور سابقہ فاٹا و پاٹا کے لیے کسٹم کلیئرنس کے وقت آرڈر دینا لازم تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے۔
عدالت عظمیٰ نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے اور معاملے کی آئندہ سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاٹا سپریم کورٹ آف پاکستان سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ بحال فاٹا وکیل حافظ احسان کھوکھر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ آف پاکستان فاٹا پشاور ہائیکورٹ سپریم کورٹ
پڑھیں:
پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
پشاور:حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے او پی ڈیز اور آپریشنز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے او پی ڈی کمروں کو تالے بھی لگا دیے۔ ہڑتال کے باعث اسپتال میں مختلف طبی سروسز کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی۔
اس صورتحال کے نتیجے میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اسفندیار نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے وعدے کے مطابق کرپشن کی شفاف تحقیقات کروائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس حوالے سے فوری اقدامات نہ کیے تو صوبے بھر کے تمام اسپتال بند کر دیے جائیں گے۔