بجٹ سازی پر مشاورت: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آج سے آغاز
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) آئندہ مالی سال کے بجٹ پر مشاورت کیلئے پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ورچوئل مذاکرات کا آغاز آج سے ہوگا جو 16 مئی تک جاری رہیں گے۔
ذرائع کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ نئے مالی سال کے بجٹ پر مشاورت کرے گی، بجٹ 26-2025 کے اہداف کا باہمی مشاورت سے تعین کیا جائے گا جبکہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اقتصادی اصلاحات جاری رکھے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی نے آئی ایم ایف ٹیم کی پاکستان آمد کو متاثر کیا، آئی ایم ایف وفد کا آئندہ ہفتے پاکستان دورے کا امکان ہے، آئی ایم ایف کا دورہ پاکستان ایک ہفتے تاخیرکا شکار ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ تکنیکی مذاکرات میں ڈیٹا شیئر کیا جائے گا، پالیسی سطح کے مذاکرات میں بجٹ اہداف کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں 400 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات پر غور ہو گا اور بجٹ میں ٹیکس ریلیف اقدامات پر بھی خصوصی سیشنز ہوں گے، تنخواہ دارطبقے پر انکم ٹیکس میں ریلیف پر آئی ایم ایف کو منانے کیلئے خصوصی تیاریاں کی جارہی ہیں۔
صنعتوں اور تعمیراتی شعبے کیلئے بھی آئی ایم ایف کو راضی کرنے کی کوشش ہو گی، آئی ایم ایف نے بلغاریہ سے وابستہ مس آئیوا پیٹرووا کو پاکستان میں نیا مشن چیف بھی مقرر کر دیا ہے۔
حکومت عید تعطیلات سے قبل 2 جون کو نیا بجٹ پیش کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، آئندہ مالی سال میں بھی مالیاتی پالیسی سخت رہنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ جی ڈی پی پرائمری بجٹ سرپلس کا 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف آئی ایم ایف پاکستان ا
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔