آئندہ انتخابات میں جماعت اسلامی ملک کی بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھرے گی،ڈاکٹر طارق سلیم
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
آئندہ انتخابات میں جماعت اسلامی ملک کی بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھرے گی،ڈاکٹر طارق سلیم WhatsAppFacebookTwitter 0 11 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا نومبر میں لاہور میں ہونے والا اجتماع عام عوامی امنگوں کا تر جمان ثا بت ہو گا، جماعت اسلامی نو مبر میں ہو نے والے اجتماع عام سے قبل عوام کو در پیش مسائل اور ان کے حل کے لیے ملک بھر میں ہزاروں عوامی کمیٹیاں بنائے گی
جماعت اسلامی کی ملک و قوم کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کیلئے جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوگی، انھوں نے کہاجماعت اسلامی کے بارے میں قوم کا ذہن تبدیل ہو رہا ہے،عوام اپنے مسائل کے حل کیلئے جماعت اسلامی کو امید کی کرن سمجھتے ہیں، آئندہ انتخابات میں جماعت اسلامی ملک کی بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھرے گی،اور ہم ملک و قوم کو چوروں اور لٹیروں سے نجات دلا کررہیں گے، جب تک پاکستان پرسودی نظام مسلط ہے معیشت ٹھیک ہوسکتی ہے نہ غربت مہنگائی اور بے روز گاری جیسے مسائل سے نجات مل سکتی۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے جماعت اسلامی گجرات کے ممبر کنونشن سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔
اس موقع پرامیر جماعت اسلامی ضلع گجرات چوہدری انصر محمود دھول ایڈووکیٹ سیکرٹری جنرل ضلع محمد عمر صدیق،امیر شہر راجہ ساجد شریف، صدر جماعت اسلامی یوتھ ضلع گجرات چوہدری خرم شہزاد گورالہ نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا ہم رائے عامہ کو منظم کرکے محلے اور یونین کونسل کی سطح پر عوامی کمیٹیاں بنائیں گے تاکہ عوام کے مسائل فوری حل ہو سکیں۔جماعت اسلامی ظلم و جبر کے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے عوام کو ساتھ ملا کر چلے گی، ملک میں مافیا کا راج ہے اور ایک طرح کا ٹھیکیداری نظام چل رہا ہے، اس فرسودہ نظام کو بدلنا اور پرامن مزاحمتی تحریک سے ملک میں انقلاب لانا ہوگا، پاکستان کے نوجوان انقلاب کے لیے سب سے بڑی امید ہیں، انہوں نے کہا کہ فارم 47سے لوگ مسلط کردیے جائیں اور حق داروں کو ان کا حق نہ ملے، ایسا مزید نہیں چلے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کیلئے درخواست دائر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کیلئے درخواست دائر بھارت نے رات کے اندھیرے میں حملہ کرکے جنگ چھیڑی اور پھر پاکستان نے اسے مکمل کیا، بلاول بھٹو بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کا خدشہ، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری القادر ٹرسٹ نیب ریفرنس میں جائیداد نیلامی کے معاملے پر بڑی پیش رفت، اشتہاری ملزمان کی 3میں سے بنی گالا میں موجود ایک جائیداد... بھارت ایک بار پھر سفارتی آداب بھول گیا، پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری نیپرا نے سیپکو اور حیسکو پر ساڑھے 9کروڑ روپے کے جرمانے عائد کردیے
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر طارق سلیم جماعت اسلامی
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔