قومی اسمبلی: فورسز کو 3 ماہ کیلئے مشکوک شخص کی گرفتاری کا اختیار دینے کا بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
قومی اسمبلی: فورسز کو 3 ماہ کیلئے مشکوک شخص کی گرفتاری کا اختیار دینے کا بل منظور WhatsAppFacebookTwitter 0 13 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) قومی اسمبلی نے آرمڈ فورسز یا سول آرمڈ فورسز کو 3 ماہ کے لیے مشکوک شخص کو گرفتار کرنے کے اختیارات دینے کا بل منظور کرلیا۔
قومی اسمبلی میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2024 کی شق وار منظوری دے دی گئی، بل کو قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں سید نوید قمر کی متعارف کرائی گئی ترامیم کو کثرتِ رائے سے منظور کیا گیا۔
اپوزیشن نے انسداد دہشتگری ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک کی مخالفت کی، پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کی رکن عالیہ حمزہ نے کہا کہ بل 11 اگست کو پیش کیا گیا ہے، اسے منظور کرنے کی اتنی کیا جلدی ہے؟۔
مولانا فضل الرحمٰن کی بل کی مخالفت
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل کی مخالفت کردی، قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ قانون سازی سے پاکستان کے ہرشہری کو مجرم قرار دے دیا گیا، حکومت جب چاہے بغیر پوچھے کسی کو بھی گرفتار کرسکتی ہے، اس شخص کو اپنی بےگناہی خود ثابت کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری اس وقت مجرم ہے، حکومت یا ادارے کسی بھی وقت کسی بھی شہری کو گرفتار کر سکیں گے، ہم اس بل کی حمایت نہیں کرتے۔
آصفہ بھٹو نے یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش کا معاملہ اٹھایا
پاکستان پیپلزپارٹی ( پی پی پی) کی رکن آصفہ بھٹو زرداری نے یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھادیا۔
اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے آصفہ بھٹو نے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز بند کیے جارہے ہیں، حکومت فوری اس پر جواب دے۔
وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا وفاقی کابینہ نے رائٹ سائزنگ پالیسی کی منظوری دی ہے، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے مستقل ملازمین کو ایڈجسٹ کیا جائے گا، کارپوریشن کے ملازمین کے ساتھ مذاکرات کے دوران معاملات طے پاگئے ہیں۔
ملک بھر میں سرکاری رہائش گاہوں پر قبضے کا انکشاف
ملک بھر میں سرکاری رہائش گاہیں بڑے پیمانے پر غیر قانونی قبضوں میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے، اسلام آباد اور لاہور میں 2024 سے اب تک 742 اور کراچی میں اس وقت 3 ہزار 500 سرکاری رہائش گاہوں میں غیر قانونی افراد رہائش پذیر ہیں۔
وفاقی وزیر ہاؤسنگ ریاض پیرزادہ نے تحریری جواب قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا ہے، جس میں آگاہ کیا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے 26 اپریل 2024 کو سرکاری رہائش گاہوں کو خالی کرانے کی ہدایت دی تھی، آئی بی اور اسٹیٹ آفس کے اشتراک سے 742 گھروں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔
تحریری جواب میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ 2019 سے اب تک 700 رہائش گاہوں کو کراچی میں خالی کرا لیا گیا، کراچی میں غیر قانونی قابضین سے اب تک 4 کروڑ روپے وصول کر لیے گئے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر کراچی میں 10 سے 15 رہائش گاہوں کو خالی کرایا جا رہا ہے۔
ملک بھر میں 18 نئے ڈیموں کی تعمیر جاری
وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو نے ایوان میں تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں ایک ہزار 36 ارب روپےلاگت سے 18 نئے ڈیمز کی تعمیر جاری ہے، 18 نئے بڑے ڈیموں کی تعمیر کے اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تعمیر کے بعد 18 نئے ڈیم 82 لاکھ 31 ہزار 984 ایکڑ فٹ پانی کے ذخیرے کی صلاحیت پیدا کریں گے، نئے ڈیمز کی تعمیر کے بعد 34 لاکھ 64 ہزار 447 ایکڑ زمین قابل کاشت ہو گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم میں 64 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہوگی، اس وقت صوبائی حکومتیں 77 ڈیمز کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں، صوبائی حکومتوں کے 77 ڈیمز کی تعمیر پر کل 89 ارب 24 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی۔
ریاض پیرزادہ نے ایوان کو بتایا کہ وفاقی حکومت اس وقت 10 مزید نئے ڈیمز کی تعمیر کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، چینیوٹ، اسکردو، وزیرآباد، ڈڈھیال، اکھوڑی، سندھ بیراج ڈیم کی تعمیر کی منصوبہ بندی جاری ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اسپورٹس بورڈ نے کوچنگ سینٹر کیلئے پہلی خاتون ڈائریکٹر کا تقرر کردیا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے آذربائیجان کے چیف آف جنرل سٹاف کی ملاقات ملکی قرضوں میں 41 فیصد اضافہ، جلد شرح سود میں کمی، بجلی سستی ہوگی: وزیر خزانہ امریکا دہشتگردی کو قابو کرنے میں پاکستان کی کامیابیوں کا معترف، ملکر کام کرنے کا عزم پاکستان اور امریکا میں انسداد دہشتگردی سے متعلق مذاکرات ہو رہے ہیں: ٹیمی بروس چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی نیلامی کیخلاف کیس سننے سے انکار بھارت کی ہٹ دھرمی پر امریکی وزیر خزانہ برہم، تجارتی مذاکرات خطرے میں پڑ گئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔