آزادی کا 78 سالہ سفر اور خواتین کا کردار
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
آزادی کا 78 سالہ سفر اور خواتین کا کردار WhatsAppFacebookTwitter 0 13 August, 2025 سب نیوز
تحریر: سدرہ انیس
پاکستان کی آزادی کا مقصد صرف ایک خطۂ زمین حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا بھی تھا جہاں مرد و خواتین دونوں برابر کے شہری ہوں، اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک کی ترقی میں حصہ ڈال سکیں۔ 14 اگست 1947 کو جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا، اُس وقت خواتین کی تعلیم، معاشی شمولیت اور سماجی حیثیت محدود تھی، مگر جذبۂ حب الوطنی اور قربانی میں وہ کسی سے پیچھے نہیں تھیں۔ تحریکِ پاکستان میں مادرِ ملت فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان اور بے شمار گمنام خواتین نے ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد خواتین نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں قدم جمانا شروع کیا۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے خواتین کی سماجی فلاح کے لیے ادارے قائم کیے۔ 1960 کی دہائی میں خواتین سول سروس، تدریس اور نرسنگ میں اپنی جگہ بنانے لگیں، لیکن دیہی علاقوں میں پدرشاہی نظام، کم تعلیمی مواقع اور روایتی پابندیاں اُن کی راہ میں بڑی رکاوٹ رہیں۔
1970 اور 1980 کی دہائیاں خواتین کے لیے تضادات کا دور تھیں۔ ایک طرف بینظیر بھٹو جیسی قیادت نے عالمی سطح پر پاکستانی خواتین کا مثبت تاثر پیش کیا، تو دوسری طرف ایسے قوانین نافذ ہوئے جنہیں خواتین مخالف سمجھا گیا۔ اس کے باوجود خواتین نے اپنی محنت اور ہمت سے تعلیم، میڈیا، کھیل اور دیگر شعبوں میں جگہ بنائی۔
2000 کے بعد خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ ہائر ایجوکیشن میں خواتین کی تعداد مردوں سے بڑھ گئی، میڈیا اور کارپوریٹ سیکٹر میں اُن کی شمولیت نمایاں ہوئی، اور قانونی تحفظ کے لیے ہراسمنٹ سے متعلق قوانین پاس ہوئے۔ 2010 کی دہائی میں عورت مارچ اور ویمن رائٹس موومنٹس نے خواتین کی آواز کو عالمی سطح پر پہنچایا، مگر آن لائن ہراسمنٹ، شہری و دیہی فرق، اور محفوظ عوامی مقامات کی کمی جیسے مسائل آج بھی موجود ہیں۔
78 سال کے اس سفر میں پاکستانی خواتین نے قربانی، جدوجہد اور محنت سے اپنی شناخت بنائی ہے۔ اگرچہ آئینی اور قانونی طور پر انہیں کئی حقوق حاصل ہیں، مگر اصل چیلنج ان حقوق کا عملی نفاذ ہے۔ پاکستان کی ترقی اسی وقت مکمل ہوگی جب خواتین کو تعلیم، روزگار، اور اظہارِ رائے میں مساوی مواقع میسر آئیں، اور انہیں ہر میدان میں محفوظ اور بااختیار ماحول فراہم کیا جائے۔
یہ سفر جاری ہے اور ہر آنے والا سال خواتین کے لیے نئے سنگِ میل عبور کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر کا ایف پی سی سی آئی کا دورہ، دو طرفہ تجارتی تعلقات پر تبادلہ خیال امن یا کشیدگی: پاکستان بھارت تعلقات کے مستقبل پر نظر ثانی بی ایل اے بے نقاب: دہشت گردی اور مودی کی پشت پناہی کا گٹھ جوڑ سردار ایاز صادق، جامعہ نعیمیہ اور حلقہ کی تبدیلی واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج آزادی کا مطلب کیا؟ — تجدیدِ عہد کا دن اوورسیز پاکستانی: قوم کے گمنام ہیروCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آزادی کا
پڑھیں:
چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
ٹویوٹا، ہونڈا اور سوزوکی کے بعد چیری(Cherry) نے بھی ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں حالیہ اضافے کے بعد پاکستان میں اپنے تمام ماڈلز کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔
تاہم کمپنی نے فوری طور پر مکمل اضافہ صارفین پر منتقل نہیں کیا اور محدود مدت کی پروموشنل آفر کے تحت جزوی طور پر بڑھی ہوئی قیمتیں متعارف کرائی ہیں۔
چیری ٹِگو 7 پی ایچ ای وی کی سابقہ قیمت 94 لاکھ 99 ہزار روپے تھی، جسے بڑھا کر پروموشنل قیمت 99 لاکھ 99 ہزار روپے کردی گئی ہے، جبکہ آفر ختم ہونے کے بعد اس کی اصل قیمت 1 کروڑ 9 لاکھ 49 ہزار روپے ہوگی۔
چیری ٹِگو 8 پی ایچ ای وی کی قیمت 1 کروڑ 12 لاکھ 99 ہزار روپے سے بڑھا کر پروموشنل قیمت 1 کروڑ 14 لاکھ 99 ہزار روپے کردی گئی ہے، جبکہ آفر کے بعد گاڑی کی اصل قیمت 1 کروڑ 29 لاکھ 99 ہزار روپے ہوگی۔
مزیدپڑھیں:اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
اسی طرح ٹِگو 9 پی ایچ ای وی کی سابقہ قیمت 1 کروڑ 36 لاکھ 94 ہزار روپے تھی، جس کی پروموشنل قیمت 1 کروڑ 42 لاکھ 99 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ آفر ختم ہونے کے بعد گاڑی کی اصل قیمت 1 کروڑ 57 لاکھ 49 ہزار روپے ہوگی۔
کمپنی کے مطابق پروموشنل قیمتیں محدود مدت کے لیے ہیں اور 31 جولائی تک دستیاب ہوں گی، جبکہ اسٹاک ختم ہونے تک موجودہ صارفین بھی اس آفر سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
چیری کی جانب سے نئی قیمتوں کو محدود مدت کی ڈسکاؤنٹ آفر کے طور پر پیش کیا گیا ہے، تاہم رعایت کے باوجود تینوں گاڑیاں اپنی سابقہ قیمتوں کے مقابلے میں مہنگی ہوگئی ہیں۔