واشنگٹن پوسٹ کی پول رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ ٹرمپ کی انتظامیہ کے کچھ حصوں میں خدشات کے باوجود سامنے آیا ہے، کیونکہ القاعدہ سے ماضی کے روابط کی وجہ سے احمد الشرع کو واشنگٹن نے پہلے دہشت گرد قرار دیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر سے پابندیاں اٹھانے کے اعلان کے ایک روز بعد ریاض میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) سربراہی اجلاس سے قبل شام کے صدر احمد الشرع الجولانی سے ملاقات کی۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی پول رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ ٹرمپ کی انتظامیہ کے کچھ حصوں میں خدشات کے باوجود سامنے آیا ہے، کیونکہ القاعدہ سے ماضی کے روابط کی وجہ سے احمد الشرع کو واشنگٹن نے پہلے دہشت گرد قرار دیا تھا۔ امریکی اتحادی اسرائیل نے شام کے لیے پابندیوں میں ریلیف کی مخالفت کی ہے، لیکن ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر طیب اردوان، جو دونوں امریکی صدر کے قریبی ہیں، نے انہیں یہ اقدام اٹھانے کی ترغیب دی۔ ڈونلڈ ٹرمپ، تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ریاستوں کے چار روزہ دورے پر ہیں جس میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

خلیجی خطے میں ٹرمپ کے چار روزہ دوسرے کے پہلے دن پرتعیش تقریب اور کاروباری معاہدے شامل تھے، جن میں سعودی عرب کی جانب سے امریکا میں سرمایہ کاری کے لیے 600 ارب ڈالر اور مملکت کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت میں 142 ارب ڈالر کا وعدہ شامل ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ آج سعودی عرب کا دورہ مکمل کرنے کے بعد قطر کے دارالحکومت دوحا جائیں گے جہاں وہ امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور دیگر حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

قطر، جو امریکا کا ایک اہم اتحادی ہے، توقع ہے کہ امریکا میں سیکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرے گا۔ واضح رہے کہ احمد الشرع، جو القاعدہ کے سابق کمانڈر ہیں اور جنہوں نے دسمبر میں شام کے سابق صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنے والی باغی افواج کی قیادت کی، کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی بات چیت کو قریب سے دیکھا جائے گا کیونکہ مبصرین اس سے اندازہ لگائیں گے کہ واشنگٹن، دمشق کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ ترتیب دینے میں کتنا سنجیدہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: احمد الشرع ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ کی

پڑھیں:

اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال

اسلام آباد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا اور پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی، برادرانہ اور دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے حالیہ علاقائی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مؤثر مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی روابط ہی مسائل کے پائیدار حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعاون کے فروغ، باہمی اعتماد میں اضافے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں روابط کو مزید مستحکم بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) کے تحت طے پانے والے نکات پر مؤثر عملدرآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کی قیادت خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر متفق ہے، جبکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات، علاقائی امن کے لیے سفارتی روابط جاری رکھنے پر اتفاق
  • اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر
  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل