غزوہ ہند اور ہولناک ہلاکت خیز جنگ
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
جب زمین پر ظلم و ستم چھا جائے گا، مسلمان باہم متفرق، کمزور اور بے بس ہوں گے، ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندے امام مہدی علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسلِ پاک سے بھیجے گا۔ وہ امت مسلمہ کو متحد کریں گے، اس کی قیادت کریں گے، اور دنیا میں عدل و انصاف کا نظام قائم کریں گے۔
امام مہدی کا ظہور قیامت کی بڑی علامات میں سے ہے، جس کا ذکر اہل سنت و اہل تشیع کی معتبر احادیث میں تفصیل سے آیا ہے۔ ان کے ظہور کے بعد ایک سخت آزمائش سامنے آئے گی سفیانی کی صورت میں، جو شام(سیریا) سے ابھرنے والا ایک ظالم حکمران ہوگا اور جسے مغربی صیہونی طاقتوں کی بھرپور پشت پناہی حاصل ہوگی۔
ظہورِ مہدی سے پہلے کی نشانیاں‘ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام مہدی کے ظہور سے پہلے‘ ظلم، فساد، ناانصافی اور فتنہ عام ہوگا‘مشرقِ وسطی(خصوصاً عراق و شام) خانہ جنگیوں میں الجھ جائے گا‘ امتِ مسلمہ فرقوں میں بٹ جائے گی اور قیادت مایوس کن ہوگی‘ آسمان سے ایک غیبی آواز امام مہدی کے ظہور کی خوشخبری دے گی۔
حدیث:اگر دنیا کی عمر میں ایک دن بھی باقی رہ جائے، تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اس وقت تک طویل کر دے گا جب تک میری اولاد میں سے ایک شخص کو نہ بھیج دے، جس کا نام میرے نام جیسا ہوگا اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام جیسا ہوگا۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔
(سنن ابی دائود 4282، مسند احمد 6469)
سفیانی کا ظہور آخری زمانے کا فرعون‘ سفیانی آخری زمانے کا ایک خوفناک کردار ہے۔ احادیث میں اس کی صفات یوں بیان ہوئی ہیں‘ وہ قبیلہ کلب سے ہوگا۔ اس کا ظہور دابق یا اعماق (حلب کے قریب) سے ہوگا۔ ایک بڑی فوج کی قیادت کرے گا۔80جھنڈوں کے تحت، جسے صیہونی اور مغربی یورپی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل ہوگی۔
حدیث:سفیانی رجب کے مہینے میں ظاہر ہوگا، اس کا جسم مضبوط، چہرہ سرخ اور بال سنہری ہوں گے۔ وہ قبیلہ کلب سے ہوگا۔
(کتاب الفتن، نعیم بن حماد، حدیث 5)
امام مہدی کے خلاف سفیانی کی پہلی فوج‘ جب امام مہدی مکہ مکرمہ میں ظہور فرمائیں گے اور مسلمان خانہ کعبہ کے پاس ان کی بیعت کریں گے، تو سفیانی انہیں خطرہ سمجھے گا اور ایک بڑی فوج حجاز کی طرف روانہ کرے گا۔مگر یہ فوج دمشق اور مدینہ کے درمیان مقام ’’بیداء‘‘ کے صحرا میں زمین میں دھنس جائے گی۔ یہ ایک عظیم کرامت امام مہدی ہوگی۔
حدیث:ایک لشکر کعبہ کی طرف روانہ ہوگا، جب وہ بیداء میں پہنچے گا جو مکہ و مدینہ کے درمیان ہے زمین اسے نگل لے گی۔
(صحیح مسلم 2892)
یہ کرامت امام مہدی کی سچائی کی کھلی نشانی ہوگی۔ چنانچہ عراق کے نیک مردانِ خدا، شام کے ابدال اور خراسان (پاکستان، ایران، افغانستان وسطی ایشیا) سے صالح مسلمان جوق در جوق امام مہدی کی مدد کے لیے نکل کھڑے ہوں گے۔
سفیانی کی انتقامی چڑھائی اور دمشق کی جنگ‘جب سفیانی کو اس کی فوج کے دھنس جانے کی خبر ملے گی، تو وہ مزید بڑی اور ظالم فوج کے ساتھ خود قیادت کرتے ہوئے حلب سے دمشق تک کے علاقوں پر قابض ہو جائے گا، اور مغربی طاقتیں اس کا ساتھ دیں گی۔اسی دوران امام مہدی کی قیادت میں سچے مومین کی فوج دمشق کی طرف پیش قدمی کرے گی۔ دونوں لشکر دمشق کے قریب مقام غوطہ میں آمنے سامنے ہوں گے۔
الملحمۃ الکبری (Armageddon) تین دن کی ہولناک جنگ‘غوطہ (دمشق سے 22 میل دور) میں جو جنگ ہوگی، وہ تاریخِ انسانی کی سب سے بڑی اور خونی جنگ ہوگی الملحمۃ الکبری یا Armageddon۔
حدیث:الملاحمہ کے وقت مسلمانوں کا مرکز شام کے ایک شہر دمشق کے قریب غوطہ ہوگا۔ (سنن ابی دائود 4294)
یہ جنگ تین دن جاری رہے گی، جس میں 90 فیصد فوجیں ختم ہو جائیں گی۔ زمین لاشوں اور خون سے بھر جائے گی، اور آسمان چیخوں اور دھوئیں سے۔چوتھے دن اللہ کی مدد اور امام مہدی کی فتح ‘جب امید ختم ہونے کو ہوگی، چوتھے دن اللہ کی خاص مدد نازل ہوگی۔ امام مہدی کی فوج کو برتری حاصل ہوگی ممکن ہے کہ فرشتے، اور روحانی طاقتیں ان کی مدد کو آئیں۔
حدیث:قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک رومی دابق یا اعماق میں نہ اتریں، پھر مدینہ سے ایک لشکر نکلے گا ایک تہائی بھاگ جائے گا، ایک تہائی شہید ہوگا، اور ایک تہائی کو فتح حاصل ہوگی۔ (صحیح مسلم 2899)
سفیانی اور اس کی فوج مکمل طور پر پسپا ہو جائے گی، اور صیہونی اتحادی بھی تباہی کا شکار ہوں گے۔غزوہ ہند اور دجال کے ظہور کی تمہیداحادیث میں غزوہ ہند کا بھی ذکر ہے، جس میں خراسانی فوج کو فتح ملے گی۔ امام مہدی مسلمانوں کو متحد کریں گے، اور یہ سب کچھ دجال کے ظہور کی تمہید ہوگا۔ اہل علم آخرزمان کی رائے میں خراسان فوج پاکستان کی مبارک فوج کی قیادت میں اور اس پر مشتمل ہوگی ۔امام مہدی کے دوران اچانک دجال نکل آئے گا۔
دجال مکہ و مدینہ کے سوا پوری دنیا پر غالب ہو گا۔ وہ چالاکی، جادو اور فتنے کے ذریعے کمزور ایمان والوں کو گمراہ کرے گا۔تب حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے، اور دنیا میں عدل، امن، اور توحید کو قائم کریں گے۔
نصیحت اور درخواست:یہ سب واقعات ایک حقیقی روحانی بیداری اور فیصلہ کن دور کی نشانیاں ہیں۔ ہم سب کو چاہیے کہ ہم سچے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہیں‘ فتنوں سے ہوشیار اور باخبر رہیں‘ اللہ سے مدد مانگتے رہیں‘ صبر، اخلاص، اور ہدایت کا دامن نہ چھوڑیںاور استقامت رکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: امام مہدی کی امام مہدی کے حاصل ہوگی کی قیادت کریں گے کے ظہور جائے گی جائے گا ہوں گے اور اس کی فوج
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔