نشتر ہسپتال ملتان میں ایڈز کا پھیلاؤ، وائس چانسلر اور ایم ایس کی غفلت ثابت
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
ملتان کے نشتر ہسپتال میں ایچ آئی وی وائرس کے پھیلاؤ کی انکوائری کا فیصلہ آگیا، انکوائری کمیٹی نے وائس چانسلر اور ایم ایس کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق رپورٹ میں غفلت ثابت ہونے پر وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر مہناز خاکوانی کو عہدے سے ہٹانے جبکہ ایم ایس نشتر ہسپتال کا انکریمنٹ روکنے کی سفارش کر دی گئی۔
حکومت پنجاب کے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ ہیلتھ ایجوکیشن کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق نشتر ہسپتال کے ڈائیلاسز یونٹ سے مریضوں کے ایچ آئی وی وائرس کیس کے ذمہ داران کے خلاف انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
ہسپتال میں ڈائیلاسز کے دوران 25 سے زائد مریضوں میں ایچ آئی وی وی وائرس منتقل ہوا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ نشتر ہسپتال ملتان کے شعبہ نیفرولوجی میں زیر علاج ایچ آئی وی کا مریض 40 سالہ شاہنواز انتقال کرگیا تھا، بعد ازاں انکشاف ہوا تھا کہ جس مشین پر اسکا ڈائیلاسز کیا گیا تھا۔
شاہنواز کی موت کے بعد ہی ڈاکٹرز نے ڈائیلاسز کروانے والے دیگر مریضوں کے ٹیسٹس کیے تھے، جن سے مزید 30 مریضوں میں ایچ آئی وی منتقل ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔
ڈان نے ہسپتال انتظامیہ کے ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ مذکورہ واقعہ گزشتہ ماہ اکتوبر میں پیش آیا تھا لیکن اسے خفیہ رکھا گیا تھا۔
نوٹی فکیشن کے مطابق تمام ذمہ داران کو ایک ہفتے کے اندر اپنے حتمی جواب دوران سماعت پیش کرنے کو کہا گیا ہے تاکہ حتمی رپورٹ اور کارروائی کے لیے سفارشات وزیر اعلی پنجاب کو پیش کی جا سکیں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نشتر ہسپتال
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔