UrduPoint:
2026-07-24@02:36:42 GMT

ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے تیار، رپورٹ

اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT

ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے تیار، رپورٹ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 15 مئی 2025ء) ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار نے امریکہ کے این بی سی نیوز کو بدھ کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران اقتصادی پابندیاں ہٹانے کے بدلے امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے کہا کہ تہران کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، انتہائی افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے کو ختم کرے گا، یورینیم کو صرف نچلی سطح تک افزودہ کرنے پر راضی ہو گا جو شہری استعمال کے لیے درکار ہے، اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو اس عمل کی نگرانی کرنے کی اجازت دے گا۔

ایران جوہری مذاکرات میں امید افزا پیش رفت

یہ پوچھے جانے پر کہ اگر ان شرائط کو پورا کیا جائے تو کیا ایران آج معاہدے پر دستخط کرنے پر راضی ہو جائے گا؟ تو شمخانی نے کہا، "ہاں۔

(جاری ہے)

"

شمخانی کا تبصرہ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران کی توقعات اور آمادگی کے حوالے سے اب تک کا سب سے واضح عوامی بیان معلوم ہوتا ہے۔

اگلے امریکی ایرانی جوہری مذاکرات ملتوی، ٹرمپ کی نئی دھمکی

شمخانی نے کہا، "یہ اب بھی ممکن ہے۔

اگر امریکی ان کے کہنے کے مطابق عمل کریں تو یقینی طور پر ہمارے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا، "یہ مستقبل قریب میں بہتر صورت حال کا باعث بن سکتا ہے۔" قطر سے مدد کی اپیل

قبل ازیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز قطر پر زور دیا کہ وہ ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے تہران کی قیادت کو امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنے پر آمادہ کرے۔

ٹرمپ، جو مشرق وسطیٰ کے تین ممالک کے دورے پر ہیں، نے یہ اپیل قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیے گئے ایک سرکاری عشائیہ کے دوران کی۔ قطر نے گزشتہ برسوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔

ٹرمپ نے رسمی عشائیہ میں تقریر کے دوران کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ ایران کی صورتحال میں میری مدد کر سکتے ہیں۔

"یہ ایک خطرناک صورتحال ہے، اور ہم صحیح کام کرنا چاہتے ہیں۔""

ٹرمپ نے ریاض میں خلیج تعاون کونسل کے رہنماؤں سے بھی کہا کہ وہ ایک معاہدے کے لیے تیار ہیں، لیکن اصرار کیا کہ ایران کو مستقبل کے کسی بھی معاہدے کے حصے کے طور پر پورے خطے میں پراکسی گروپوں کی حمایت کو روکنا چاہیے۔

امریکہ اور ایران نے 2015 میں صدر براک اوباما کی انتظامیہ کے دوران ایک جوہری معاہدہ کیا تھا، جس میں ایران نے اپنے یورینیم کے ذخیرے کو بڑی حد تک کم کرنے اور صرف 3.

67 فیصد تک افزودہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

اس معاہدے کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں یک طرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔

امریکہ اور ایران نے ملک کے جوہری پروگرام کے بارے میں گزشتہ ماہ کے اوائل سے چار دور کی بات چیت کی ہے۔ ٹرمپ نے ایک معاہدے تک پہنچنے کے بارے میں امید کا اظہار کیا ہے، حالانکہ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ یہ موقع بہت زیادہ دیر تک باقی نہیں رہ سکتا۔

ایرانی اور یورپی سفارت کاروں کی ملاقات

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ دو مئی کو طے شدہ ملاقات ملتوی ہونے کے بعد ایران جمعے کو یورپی فریقوں کے ساتھ اپنے جوہری معاہدے کے لیے استنبول میں مذاکرات کرے گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے قبل ازیں اطلاع دی تھی کہ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ فرانسیسی، برطانوی اور جرمن سفارت کاروں سے بات چیت برقرار رکھنے اور اس بات پر تبادلہ خیال کرنے کی غرض سے ملاقات کریں گے کہ وہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے ممکنہ نئے جوہری معاہدے کے معیارات کا کیا تصور رکھتے ہیں۔

عراقچی نے کہا کہ 11 مئی کو منعقدہ ایران-امریکہ مذاکرات کا چوتھا دور "مشکل" تھا کیونکہ ان کی توجہ افزودگی کے متنازعہ مسئلے پر تھی۔ انہوں نے مزید یہ امید ظاہر کی کہ ایران کا بنیادی موقف بہتر طور پر سمجھنے کے بعد دوسرے فریق کا طرز عمل "زیادہ حقیقت پسندانہ" ہو گا۔

ادارت: صلاح الدین زین

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جوہری معاہدے امریکہ کے معاہدے کے کہ ایران کے ساتھ کے لیے نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل