فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یوکرین تنازع میں شدت آنے کے بعد یورپی اسلحہ ساز کارخانے اپنی پیداواری صلاحیت میں اس رفتار سے اضافہ کر رہے ہیں، جو پہلے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔

 2022 سے اب تک 70 لاکھ مربع میٹر سے زائد نئے صنعتی منصوبے تعمیر کیے جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:روس یوکرین جنگ بندی کا انحصار پیوٹن پر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

فنانشل ٹائمز نے ایک ہزار سے زائد ریڈار سیٹلائٹ مشاہدات کے تجزیے کے بعد کہا کہ یورپی اسلحہ ساز فیکٹریوں میں ہونے والی یہ سرگرمیاں تاریخی پیمانے پر دوبارہ مسلح ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں۔

اس تحقیق میں 37 کمپنیوں کے 150 مقامات کا جائزہ لیا گیا، جن میں سب سے زیادہ توسیع گولہ بارود اور میزائل بنانے والے مراکز میں دیکھی گئی۔

مثال کے طور پر ہنگری میں رائن میٹل–این7 کا نیا پلانٹ، جرمنی میں پیٹریاٹ میزائل بنانے کے لیے ایم بی ڈی اے کا توسیعی منصوبہ، اور ناروے میں 2024 میں کھلنے والا کونگسبرگ پلانٹ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:یورپی رہنماؤں کا یوکرین کے حق میں اظہارِ یکجہتی، ٹرمپ پیوٹن ملاقات سے قبل خدشات میں اضافہ

مغربی یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نیٹو کے اہداف پورے کرنے، کیف کو فوجی امداد جاری رکھنے اور روسی جارحیت کے خدشے کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے یورپ کی سب سے مضبوط فوج بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے لازمی فوجی سروس دوبارہ نافذ کرنے کی حمایت کی ہے۔

ادھر ماسکو ان اقدامات کو مغرب کی ’غیر ذمہ دارانہ عسکریت‘ قرار دیتا ہے اور کسی بھی نیٹو یا یورپی یونین ملک پر حملے کے ارادے کو ’بے بنیاد‘ اور خوف پھیلانے کی کوشش کہتا ہے، تاکہ دفاعی اخراجات میں اضافہ جواز پاسکے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ مغربی یورپی رہنما یورپ کو جنگ کے لیے تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کوئی ہائبرڈ جنگ نہیں بلکہ روس کے خلاف حقیقی جنگ۔

انہوں نے الزام لگایا کہ یورپی یونین روس مخالف جنون میں مبتلا ہوچکی ہے اور اسلحہ بندی بے قابو ہو گئی ہے۔

ماسکو کا مؤقف ہے کہ یوکرین کو مغربی اسلحہ کی فراہمی جنگ کو طول دینے اور غیر ضروری جانی نقصان کا باعث بنتی ہے، لیکن اس سے جنگ کا نتیجہ تبدیل نہیں ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلحہ ساز کارخانے روس یورپ یورپی ممالک یوکرین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلحہ ساز کارخانے یورپ یورپی ممالک یوکرین کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔

امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔

امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور سہولت کار بھی پکڑے گئے
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم