پاکستان کے سائبر اٹیک میں بھارت کو کس تباہی کا سامنا کرنا پڑا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
آپریشن بنیان مرصوص میں افواج پاکستان کی سائبر ٹیم سرگرم عمل رہی اور بھارتی جارحیت کو منہ توڑ جواب دیا۔
ذرائع کے مطابق افواج پاکستان کی سائبر ٹیم نے بھارت کو مختلف ڈومینز میں نقصان پہنچایا، جس میں پاور انفراسٹرکچر اور پیٹرولیم سیکٹر شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آپریشن بنیان مرصوص: پاک فوج کی پٹھان کوٹ کو ٹارگٹ کرنے کی ویڈیو منظرعام پر
پاکستانی سائبر ٹیم نے قومی مواصلات کو بھی شدید نقصان پہنچایا، جبکہ بھارتی سرکاری ای میل اور OTP انفراسٹرکچر کو بھی بند کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی سائبر ٹیم نے بھارتی نگرانی کے نظام میں خلل پیدا کیا، کمیونیکیشن ہارڈ ویئر کو تباہ اور بھارتی ویب سائٹس کو ہیک کیا۔ اس کے علاوہ پاکستانی سائبر ٹیم نے بھارتی ہوائی اڈوں کے سرورز ٹیک ڈاؤن کیے اور بھارتی فضائیہ کے مواصلاتی نظام اور ریلوے کے نظام میں خلل پیدا کیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی سائبر ٹیم نے بھارت کے نیشنل، ایسٹرن، ناردرن اور ویسٹرن لوڈ ڈسپیچ سینٹرز تک رسائی حاصل کرکے سسٹم کو بھی ہیک کیا، جس سے تقریباً 80 فیصد صارفین کو عارضی طور پر بجلی سے محروم ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں:معرکہ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص: دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی عالمی فتح، امریکی صدر ٹرمپ کا اعتراف
ذرائع کے مطابق ریاست اتر پردیش میں 3600+ پاور فیڈرز ، جموں و کشمیر کے علاقے میں 600+، ریاست مہارشٹڑ 4600+ فیڈرز کی سپلائی کو ہیک اور منقطع کیا گیا، جبکہ پنجاب لوڈ ڈسپیچ سینٹر کے 2 مین AI سرورز ، ریاست کرناٹک میں 235+ ونڈ اور سولر گرڈز کو ہیک اور ناکارہ بنایا گیا۔
ذرائع نے انکشاف کیا کہ ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (HPCL) اور اندرا پرستھا گیس لمیٹڈ (IGPL) کے ڈیٹا بیس کو ہیک اور ناکارہ کر دیا گیا اور 4400+ سرکاری اور پبلک سیکٹر کمیونیکیشن راؤٹرز کو ناکارہ بنا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:پہلگام میں بہا لہو نریندری مودی نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، جسٹس فائز عیسیٰ
اس کے علاوہ تمام اہم حکومتی، ملٹری، ایئر فورس، اسٹاک ایکسچینجز اور دیگر پبلک سیکٹر تنظیموں کے سرورز پر DDoS حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ای میل/OTP ورک فلو اور اندرونی مواصلات میں قومی خلل پیدا ہوا۔
ذرائع کے مطابق سرکاری عمارتوں، شاہراہوں، اسپتالوں اور دیگر عوامی زونز کے 3500+ سی سی ٹی وی کیمرے ہیک کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:پہلا میزائل فائر ہوا تو آرمی چیف کہاں تھے؟ انصار عباسی کے اہم انکشافات
مقبوضہ جموں و کشمیر میں 250+ اہم ISP کمیونیکیشن راؤٹرز کو ہیک کرکے ناکارہ بنادیا گیا۔90 سے زیادہ سرکاری اور کارپوریٹ سیکٹر کی ویب سائٹس کے ڈیٹا کو ہیک کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس میں بھارتی فضائیہ، ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ، بارڈر سیکیورٹی فورس، ہندوستان کی منفرد شناختی اتھارٹی اور ہندوستانی ریلوے شامل ہیں،
ذرائع کے مطابق جن بھارتی ہوائی اڈوں کے سرورز کو ہیک کیا گیا اس میں ممبئی، دہلی اور کولکتہ شامل ہیں۔
آپریشن بنیان مرصوص کے دوران بھارتی فضائیہ کے مواصلاتی نظام میں خلل پیدا کیا گیا، جس میں بھارتی فضائیہ کی نادرن، سدرن اور ویسٹرن ایئر کمانڈ شامل ہیںْ
ذرائع کے مطابق بھارتی ریلوے کے مختلف سرورز کو بھی ہیک کیا گیا، جس سے بھارت کے متعدد علاقوں میں ریلویز آپریشن متاثر ہوئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی سائبر ٹیم نے سائبر ٹیم نے بھارت ذرائع کے مطابق بھارتی فضائیہ شامل ہیں کیا گیا دیا گیا ہیک کیا کو ہیک
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب