چین میں رواں سال ریزرو ریکوائرمنٹ ریشو میں پہلی کمی کا نفاذ کیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
چین میں رواں سال ریزرو ریکوائرمنٹ ریشو میں پہلی کمی کا نفاذ کیا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 15 May, 2025 سب نیوز
بیجنگ :عوامی بینک آف چائنا نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ 15 مئی سے مالیاتی اداروں کی ریزرو ریکوائرمنٹ ریشو میں0.5 فیصد پوائنٹس کی کمی کی جائے گی (ان مالیاتی اداروں کو چھوڑ کر جو پہلے سے 5 فیصد ریزرو ریکوائرمنٹ ریشو پر عملدرآمد کر رہے ہیں)، اور اوٹو فائناسنگ کمپنیوں اور فائنانشل لیزنگ کمپنیوں کی ریزرو ریکوائرمنٹ ریشو میں 5 فیصد پوائنٹس کی کمی ہوگی۔
ریزرو ریکوائرمنٹ ریشو میں 0.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثالی سرمایہ کاری کی منزل رہے گا، چینی صدر چین غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثالی سرمایہ کاری کی منزل رہے گا، چینی صدر آئندہ بجٹ میں پراپرٹی منافع پر ٹیکس کی شرح میں نمایاں اضافہ متوقع سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، اسٹاک مارکیٹ میں 600 پوائنٹس کا اضافہ امریکہ کی جانب سے چینی مصنوعات پر اضافی ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ کر دی گئی تیل اور گیس کے ذخائردریافت کرنے کیلئے بڑے پیمانے پرکام شروع،شراکت دار کمپنیوں کو لائسنس جاری بیرن نے پاکستان کی اقتصادی میدان میں کارکرگی معاشی کرشمہ قرار دیدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔