سینیٹ: بھارتی جارحیت کیخلاف مسلح افواج کی کارروائی پر قرار داد متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
سینیٹ نے بھارتی جارحیت کے خلاف مسلح افواج کی کارروائی پر قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مسلح افواج سے متعلق قرار داد ایوان میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ آرمی، ایئر فورس اور نیوی نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔
قرار داد کے مطابق اس آپریشن نے پاکستان کی خود مختاری کا تحفظ کیا۔
قرار داد کے متن کے مطابق آپریشن پختگی سے کیا گیا۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان پر الزام تراشی بھارت کا پرانا وتیرہ ہے، پہلگام واقعہ کے فوری بعد بھارت نے الزام پاکستان پر لگا دیا، ہم نے پہلے کہہ دیا تھا کہ ہم ادلے کا بدلہ دیں گے۔ ہم نے بھارت کے چھ طیارے گرائے، ہمارے ایک جہاز کو بھی نقصان نہیں پہنچا۔
یہ بھی پڑھیے سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے بھارت کے ’’نیو نارمل‘‘ جیسے بیانات کو بے بنیاد قرار دے دیا وزیرِ اعظم نے حالیہ بحران میں پاکستان کیساتھ یکجہتی اور حمایت پر آذربائیجان کے صدر کا شکریہ ادا کیااسحاق ڈار نے کہا ہم نے سینیٹ میں متفقہ قرارداد منظور کی، انھوں نے کہا پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے یکطرفہ اقدامات کیے، قومی سلامتی کمیٹی نے بھارتی اقدامات کے پیش نظر فیصلے لیے۔
انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری پاکستان اور بھارت سے رابطے میں تھی، تمام ممالک سے ہم سفارتی رابطے میں تھے۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ سب ممالک کہہ رہے تھے کہ آپ ایٹمی طاقت ہیں، ساٹھ وزرائے خارجہ، وزرائے اعظم سے میری فون پر بات ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے بھارت
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،