اسلام آباد:

وزیرتجارت جام کمال خان نے پاکستان سے تجارت کے لیے امریکی خواہش کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ٹیرف کو پاکستان کے ساتھ تجارت کے لیے ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیرتجارت جام کمال نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھائے، امریکا ٹیرف کو پاکستان کے ساتھ تجارت کی راہ میں ایک رکاوٹ کے تحت دیکھ رہا ہے۔

ٹرمپ کے بیان کے بعد پاکستان پر لگائے گئے ٹیرف میں متوقع کمی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے ایک مثبت بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ایک مضبوط کمیٹی پہلے ہی قائم کی ہوئی ہے جس کی سربراہی وزیر خزانہ کر رہے ہیں، اس کمیٹی میں وزارت تجارت، وزارت پیٹرولیم، فوڈ اینڈ سیکیورٹی اور پرائیویٹ سیکٹر کے لوگ بھی معاونت کر رہے ہیں۔

جام کمال کا کہنا تھا کہ پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ میں یہ کمیٹی ٹیرف کے حوالے سے کام کر رہی ہے، کمیٹی یہ اندازہ لگا رہی ہے کہ وہ کون سے فیکٹرز ہیں جن پر امریکا کے ساتھ بات کی جاسکتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ صورت کے بعد ٹرمپ کا بیان پاکستان کی مضبوطی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے ساتھ تجارت

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار