Islam Times:
2026-07-24@14:14:23 GMT

علامہ مقصود ڈومکی کا مغویوں کی فوری رہائی کا مطالبہ

اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT

علامہ مقصود ڈومکی کا مغویوں کی فوری رہائی کا مطالبہ

اپنے بیان میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ریاستی رٹ اور امن و امان کی صورتحال پر بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ گذشتہ چند سالوں میں سینکڑوں نہیں ہزاروں معصوم شہری اغوا ہو چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے بختیار آباد ڈومکی اور ڈیرہ مراد جمالی کے درمیان پیش آنے والے اغوا برائے تاوان کے افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، جس میں بزرگ شہری محمد عثمان ولد میرگل براہمانی، جن کی عمر تقریباً 72 سال ہے، کو ڈاکوؤں نے اغوا کرکے پچاس لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ریاستی رٹ اور امن و امان کی صورتحال پر بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ ایک ضعیف العمر، معزز شہری کا اغوا پورے علاقے میں خوف اور بے چینی کا باعث بن چکا ہے۔ ایسے جرائم کو برداشت کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ بلوچستان کی اس پٹی میں گذشتہ چند سالوں میں سینکڑوں نہیں ہزاروں معصوم شہری اغوا ہو چکے ہیں۔

علامہ ڈومکی نے کہا کہ ریاستی اداروں کی ملی بھگت سے اغوا برائے تاوان مجرموں کے لئے ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ چند روز قبل ڈیرہ مراد جمالی سے ہندو تاجر سیتل کمار کو اغوا کیا گیا۔ گذشتہ رات کندہ کوٹ میں ایک ہندو تاجر بابو لعل کے گھر پر فائرنگ کی دروازے پر گولیاں مار کر بھتہ طلب کیا۔ عوام پوچھتے ہیں ریاست کی رٹ کہاں ہے؟ انہوں نے حکومت پاکستان، آئی جی پولیس اور متعلقہ ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ تمام مغویوں کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ سندھ بلوچستان میں جرائم پیشہ عناصر خصوصاً اغوا انڈسٹری کے خلاف فوری اور مؤثر آپریشن کیا جائے۔ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنایا جائے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے مغویوں کے اہل خانہ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ اس ظلم کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ مقصود علی ڈومکی نے اغوا برائے تاوان نے کہا کہ

پڑھیں:

کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔

ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔

مزید پڑھیں

کیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی

2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا

ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اداکار منیب بٹ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین
  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک