مشرق وسطیٰ کے دورے کے تیسرے مرحلے میں متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے ایک ملاقات میں کہا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ جلد ملاقات ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:روسی صدر پیوٹن نے ملائشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کو ’حقیقی مسلمان‘ کیوں کہا؟

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ ہم ملاقات کریں، اور ایسا ہم دونوں کر سکتے ہیں۔

اپنی گفتگو میں ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جب تک وہ پیوٹن سے ملاقات نہیں کرتے روس اور یوکرین امن مذاکرات میں کسی پیش رفت کی توقع نہیں۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ دو روز قبل یوکرین سے مذاکرات کا اعلان کرنے والے روسی صدر نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے استنبول میں ذاتی طور پر ملاقات کرنے کی اپیل مسترد کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ترکیہ سربراہی اجلاس میں پیوٹن اور ٹرمپ کی عدم شرکت، یوکرین امن مذاکرات پر سوالیہ نشان

یوکراینی وفد نے آج 16 مئی کو ترک اور امریکی حکام سے ملاقات کی اور توقع ہے کہ وہ استنبول میں روسی وفد کے ساتھ بات چیت کرے گا۔

امریکی صدر نے اکثر روسی رہنما کے ساتھ اپنے خوشگوار تعلقات پر فخر کیا ہے، حالانکہ رواں سال جنوری میں ٹرمپ کے دفتر واپس آنے کے بعد سے دونوں رہنماؤں کی ملاقات نہیں ہوئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

استنبول پیوٹن ڈونلڈ ٹرمپ روس ولادیمیر زیلنسکی یوکرین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: استنبول پیوٹن ڈونلڈ ٹرمپ ولادیمیر زیلنسکی یوکرین

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا