وزیراعلیٰ سندھ کا شہدا کے ورثا کیلئے 1 کروڑ اور زخمیوں کیلئے 10 لاکھ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
سندھ سیکریٹریٹ میں پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارے جوانوں نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، مادرِ وطن کا دفاع ہر پاکستانی کا اولین فریضہ ہے اور وطن کی عزت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، ہماری مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھارتی بزدلانہ جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے ورثا کے لیے ایک کروڑ اور زخمیوں کے لیے 10 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا ہے۔ آپریشن بنیان مرصوص میں کامیابی پر یوم تشکر کے حوالے سے سندھ سیکریٹریٹ میں پرچم کشائی کی تقریب ہوئی جس میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے پرچم کشائی کی جبکہ صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری و دیگر افسران بھی شریک ہوئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہمارے جوانوں نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، مادرِ وطن کا دفاع ہر پاکستانی کا اولین فریضہ ہے اور وطن کی عزت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ دوسری جانب میڈیا سے گفتگو میں مراد علی شاہ نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف پوری قوم نے متحد ہو کر مقابلہ کیا، ہماری مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔ انہوں نے سندھ کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ یوم تشکر منائیں اور شہدا کیلئے دعا کریں، اللہ تعالی نے جو فتح ہمیں دی ہے اس کامیابی کو ملک کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا مراد علی شاہ نے کہا کہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔