آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا، راجناتھ سنگھ
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
بھارت کے وزیر دفاع نے اپنی تقریر میں پاکستان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ناشتہ کرنے میں جتنا وقت لگتا ہے، آپ فوجیوں نے دشمنوں کو ختم کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ "آپریشن سندور" کے بعد جمعہ کو بھج ایئربیس پہنچے۔ انہوں نے یہاں فوجیوں سے ملاقات کی۔ راجناتھ سنگھ نے پاکستان کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وقت آنے پر پوری پکچر دکھائیں گے۔ راجناتھ سنگھ نے بھج میں کہا کہ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے کہ ہماری فضائیہ کو پاکستان کے کونے کونے تک رسائی حاصل ہے، یہ بات پوری طرح سے ثابت ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ ہندوستان کے لڑاکا طیارے سرحد پار کئے بغیر یہاں سے ملک کے کونے کونے پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح آپ نے پاکستانی سرزمین پر دہشت گردوں کے نو اڈوں کو تباہ کیا اور اس کے بعد کی کارروائی میں ان کے کئی ائیر بیس تباہ کر دیے۔
بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنی تقریر میں پاکستان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ناشتہ کرنے میں جتنا وقت لگتا ہے، آپ نے دشمنوں کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران آپ نے جو کچھ بھی کیا اس سے تمام ہندوستانیوں کو فخر ہوا، چاہے وہ ہندوستان میں ہوں یا بیرون ملک۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو کچلنے کے لئے بھارتی فضائیہ کے لئے صرف 23 منٹ ہی کافی تھے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ناشتہ کرنے میں جتنا وقت لگتا ہے، آپ (فوجیوں) نے اپنے دشمنوں کو ختم کر دیا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ آپ نے آپریشن سندور کے دوران جو کچھ کیا اس سے پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کے علاقے میں آپ کے گرائے گئے میزائلوں کی گونج پوری دنیا نے سنی اور درحقیقت وہ بازگشت صرف میزائل کی نہیں تھی، وہ بازگشت آپ کی بہادری اور ہندوستان کی بہادری کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ راجناتھ سنگھ وزیر دفاع
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔