بھارتی جارحیت سے شہید و زخمیوں کو معاوضوں کی ادائیگی کیلئے رقم حکومت آزاد کشمیر کو فراہم
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
بھارتی جارحیت سے شہید و زخمی افراد کو پاکستان حکومت کی جانب سے دیئے گئے پیکیج کے تحت شہدا کے ورثا کو ایک کروڑ روپے، شدید زخمیوں کو 20 لاکھ اور دیگر زخمیوں کو 10 لاکھ روپے فی کس دیئے جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پاکستان نے بھارتی جارحیت سے شہید و زخمی افراد کو معاوضوں کی ادائیگی کیلئے رقم حکومت آزاد کشمیر کو فراہم کر دی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے 532.
آزاد کشمیر حکومت شدید زخمیوں کو 3 لاکھ اور معمولی زخمیوں کو 50 ہزار فی کس ادا کر چکی ہے، حکومت آزاد کشمیر نے شہدا کے ورثا کو گھر گھر جا کر معاوضہ جات کی ادائیگی کر دی ہے۔ حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے بھارتی جارحیت سے متاثرہ گھروں، دکانوں کو پہنچنے والے نقصان کے تعین کے لیے کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں۔ کمیٹیز کی رپورٹس کی روشنی میں گھروں و دکانوں کے معاوضہ جات کی ادائیگی عمل میں لائی جائیگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حکومت آزاد کشمیر بھارتی جارحیت سے شہدا کے ورثا کو کی ادائیگی کی جانب سے زخمیوں کو کو فراہم
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔