ہمارے میڈیا نے بھارتی میڈیا کو شاندار جواب دیا جو اسے یاد رہے گا، جنرل عاصم منیر
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ پاکستانی میڈیا نے بھارتی میڈیا کو شاندار جواب دیا جو اس کو ہمیشہ یاد رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شاہینوں نے دشمن کو ایسا ڈراؤنا خواب دکھایا کہ وہ قیامت تک اس سے نہیں نکل سکے گا، وزیراعظم
یوم تشکر کی تقریب کے موقعے پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے کہا کہ پوری قوم نے متحد ہوکر دشمن کا مقابلہ کیا اور جیسا ہمارے میڈیا نے جواب دیا ہمیں اس پر بھی بیحد فخر ہے۔
مزید پڑھیے: ’امریکی صدر جنگ بندی کا دعویٰ کرنے والے کون ہوتے ہیں‘، بھارتی میڈیا نے ٹرمپ پر سوال اٹھا دیا
میڈیا کو وطن کا فخر قرار دیتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ہم نے میڈیا سے کچھ نہیں چھپایا اور حقیقت ہی بتائی۔ جنرل عاصم منیر نے مزید کہا کہ ہمارے میڈیا کا کردار ذمے دارانہ رہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستانی میڈیا چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی میڈیا چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر میڈیا نے
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔