مقابلہ حسن میں صرف لڑکی کی خوبصورتی نہیں دیکھی جاتی؛ اریج چودھری
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
مس پاکستان ورلڈ اریج چودھری نے مقابلہ حسن میں انتخاب کے طریقہ کار سے متعلق حیران کن انکشافات کیے ہیں۔
انڈیپینڈنٹ اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خود پر ہونے والی تنقید کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے کہا کہ کسی کی زبان کو روکا نہیں جا سکتا۔ ہر ایک کی اپنی رائے ہوتی ہے اور میں تنقید کو اصلاح کے طور پر لیتی ہوں۔
اریج چودھری نے بتایا کہ مقابلہ حسن میں کسی لڑکی کا انتخاب صرف ظاہری خوبصورتی کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ کئی ٹاسک بھی دیئے جاتے ہیں جنھیں مکمل کرنا لازمی ہوتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ بلکہ مقابلہ حسن میں انتخاب 80 فیصد فلاحی کام کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ امیدوار اپنے ملک میں کتنا فلاحی کام کرتے ہیں۔
اریج چودھری نے بتایا کہ مقابلے میں حصہ لینے والوں کو فلاحی کاموں کے لیے وقت بھی دیا جاتا ہے۔ جو جتنا بہتر ٹاسک پورا کرتا ہے اتنے زیادہ نمبر ملتے ہیں۔
اریج چودھری نے مس پاکستان ورلڈ کا ٹائٹل جیتنے پر کہا کہ مجھے آج بھی اس کامیابی پر فخر ہے، اس کے لیے سخت محنت کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اریج چودھری
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔