بھارت مسئلہ کشمیر دفن کرنا چاہتا تھا جو دوباہ اجاگر ہو گیا، مشاہد حسین
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
کراچی قونصل آن فارن ریلیشز کے تحت "پاکستان بھارت کی حالیہ جنگ" کے حوالے سے جنوبی ایشیاء بحران اور اس تنازع کے پاکستان بھارت پر اثرات کے عنوان سے قائدِاعظم میوزیم میں سیمینار منعقد کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ سابق سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت پر واضح برتری حاصل کی ہے، تینوں افواج کے سربراہان نے شاندار حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، بھارت مسئلہ کشمیر کو دفن کرنا چاہتا تھا لیکن وہ دوباہ اجاگر ہو گیا۔ کراچی قونصل آن فارن ریلیشز کے تحت "پاکستان بھارت کی حالیہ جنگ" کے حوالے سے جنوبی ایشیاء بحران اور اس تنازع کے پاکستان بھارت پر اثرات کے عنوان سے قائدِاعظم میوزیم میں سیمینار منعقد کیا گیا۔ مقررین نے خطاب میں کہا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، مسئلہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے سمیت دیگر مسائل مذاکرات کی میز پر حل کرنا ہوں گے۔ پیٹرن انچیف کراچی قونصل آن فارن ریلیشنز اکرام سہگل، سابق سینیٹر مشاہد حسین اور جنوبی ایشیاء کے معروف تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے کہا کہ حالیہ جنگ میں ڈیپ فیک نیوز کے لیے اے آئی کا استعمال کیا گیا، جنگ کے بعد مسئلہ کشمیر دوبارہ اجاگر ہو گیا ہے۔
پینل ڈسکشن میں سینئر تجزیہ کار مظہر عباس، اویس توحید، سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور دفاعی تجزیہ کار وجیہہ حسن کا کہنا تھا کہ بھارت کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے مودی کا مائنڈ سیٹ سمجھنا ہو گا، پاکستان کا دفاعی بجٹ 10ارب ڈالرز جبکہ بھارت کا 81 ارب ڈالرز ہے، لیکن پاک افواج نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان بھارت مسئلہ کشمیر
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔