سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
ویب ڈیسک: سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے اچھی خبر ہے، جس کے مطابق غیر ملکی ایجنسی کی جانب سے ملنے والی رقم متاثرہ علاقوں کی ترقی کے لیے استعمال ہوگی۔
اطالوی ایجنسی برائے ترقی و تعاون سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے 40 لاکھ یورو فراہم کرے گی۔ اعلامیے کے مطابق یہ رقم سندھ میں سیلاب سے تباہ خاندانوں کی فلاح کے لیے استعمال ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ رقم کا مقصد متاثرین کو خشک سالی اور ہیٹ ویوز کا سب سے زیادہ شکار افراد کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ رقم سے 36 ماہ میں متاثرہ اضلاع میں ارلی وارننگ سسٹم کی تنصیب میں معاونت کی جائے گی۔
آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس -جمعہ16 مئی , 2025
اس سلسلے میں ایف اے او اور سی ای ایس وی آئی کے نمائندوں نے معاہدے پر باضابطہ دستخط کردیے ہیں۔ اس موقع پر اطالوی سفیر ماریلینا ارمیلین بھی موجود تھیں۔
اطالوی سفیر ماریلینا ارمیلین نے بتایا کہ یہ رقم موسمیاتی آفات کے خطرے میں کمی کے لیے پاکستان کی معاونت کرے گی۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: متاثرہ علاقوں سیلاب سے کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔