—فائل فوٹو

سیکٹر ای الیون زمین خرد برد نیب کیس میں بینچ تبدیلی پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے نیا حکم نام جاری کر دیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے حکم نامہ جاری کیا ہے۔

ڈویژن بینچ نے حکم نامے میں کہا کہ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے بینچ میں کیس مقرر کیا جائے۔

دو رکنی بینچ کے آرڈر کے بعد قائم مقام چیف جسٹس کی ہدایت پر نیا ججز روسٹر جاری کردیا گیا، آئندہ ہفتے کے روسٹر میں جسٹس محسن اختر کیانی کا ڈویژن بینچ ہی موجود نہیں۔

نیب کے خلاف کیس جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے ڈویژن بینچ میں زیرِ سماعت تھا۔

28 اپریل کو سماعت کے روز بینچ کی عدم دستیابی کے باعث کیس کی کاز لسٹ منسوخ ہوئی تھی۔ 22 مئی کے لیے کیس جسٹس محسن کیانی اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے پاس مقرر ہوا۔ 28 اپریل کو ہی قائم مقام چیف جسٹس کی ہدایت پر نیا ججز روسٹر جاری ہوا تھا۔

نئے روسٹر میں جسٹس محسن اختر کیانی کے ساتھ جسٹس ثمن رفعت کا بینچ بنا دیا گیا جبکہ 8 مئی کو سیکٹر ای الیون زمین خرد برد کیس کی متفرق درخواست نئے بینچ کے سامنے مقرر ہوئی۔

وکیل نے بتایا کہ پہلے یہ کیس جسٹس محسن کیانی اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق سن چکے ہیں۔ جس کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ثمن رفعت نے کیس دوبارہ پرانے بینچ میں مقرر کرنے کےلیے آرڈر جاری کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کیانی اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ڈویژن بینچ

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ