مالاکنڈ: پہاڑی علاقوں میں پانچ روز سے لگی آگ تاحال بے قابو
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
عبدالشہید پراچا: مالاکنڈ کے پہاڑی سلسلے میں لگی آگ پانچویں روز میں داخل ہو گئی ہے اور تاحال قابو نہیں پایا جا سکا۔ آگ کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جس کے باعث یہ تقریباً 12 کلومیٹر تک پھیل چکی ہے۔
ترجمان ریسکیو کے مطابق آگ نے تھانہ نوگران شکارو، گنیار اور آلہ ڈھنڈ ڈھیری کے پہاڑی علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ آگ بجھانے کی کارروائی میں ریسکیو 1122، لیویز فورس اور مقامی افراد حصہ لے رہے ہیں تاہم دشوار گزار راستوں اور شدید گرمی کے باعث اہلکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس -جمعہ16 مئی , 2025
ریسکیو ترجمان کا کہنا ہے کہ آگ سے جنگلات اور جنگلی حیات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب مقامی آبادی نے صوبائی حکومت سے فوری طور پر ہیلی کاپٹر آپریشن شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آگ پر بروقت قابو پایا جا سکے اور مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق آگ کے پھیلاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ریسکیو ٹیمیں بھرپور جدوجہد میں مصروف ہیں۔
پھلوں اور سبزیوں کی آج کی ریٹ لسٹ -جمعہ 16 مئی ، 2025
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔