شیری رحمان کا ایکس اکاؤنٹ بھی بھارت میں بند
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان کا ایکس اکائونٹ بھی بھارت میں بند کر دیا گیا۔ شیری رحمان نے اپنے ایکس اکائونٹ کی بھارت میں بندش پر کہا ہے کہ بھارت میں اظہارِ رائے پر قدغنیں نئی آہنی دیوار کی شکل اختیار کر چکی ہیں، اگر مقصد معقول آوازوں کو دبانا ہے تو یہ ہندوتوا ری پبلک کی تنگ نظری اور بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایکس پر پابندی کا مقصد سچ بولنے والوں کو خاموش کرنا ہے، بھارتی حکومت کے اقدام کا مقصد پہلگام واقعے کے حقائق چھپانا اور مقبوضہ کشمیر پر اٹھائی گئی آوازوں کو دبانا ہے، بھارت کے اس اقدام کی عالمی سطح پر مذمت ہونی چاہیے، بھارت کچھ بھی کر لے، حقائق سے نہیں بھاگ سکتا۔شیری رحمان نے کہا کہ بھارت نے پہلگام حملے کے بعد بلاجواز جارحیت کی، پاکستان نے ذمہ دارانہ انداز میں دفاع کیا، بھارت نے پوری جنگ کی بنیاد جھوٹ پر رکھی، جس کو آگے لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اگر بھارت نے پھر کسی مہم جوئی کی کوشش کی تو پاکستان موثر جواب دے گا، تاریخ اس کی گواہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی، لیکن اگر دوبارہ قومی خودمختاری پر حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بھارت میں
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔