Nawaiwaqt:
2026-07-24@06:37:30 GMT

شیری رحمان کا ایکس اکاؤنٹ بھی بھارت میں بند

اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT

شیری رحمان کا ایکس اکاؤنٹ بھی بھارت میں بند

پاکستان پیپلز پارٹی  کی  نائب صدر سینیٹر شیری رحمان کا ایکس اکائونٹ بھی بھارت میں بند کر دیا گیا۔  شیری رحمان نے اپنے ایکس اکائونٹ کی بھارت میں بندش پر کہا ہے کہ بھارت میں اظہارِ رائے پر قدغنیں نئی آہنی دیوار کی شکل اختیار کر چکی ہیں، اگر مقصد معقول آوازوں کو دبانا ہے تو یہ ہندوتوا ری پبلک کی تنگ نظری اور بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایکس پر پابندی کا مقصد سچ بولنے والوں کو خاموش کرنا ہے، بھارتی حکومت کے اقدام کا مقصد پہلگام واقعے کے حقائق چھپانا اور مقبوضہ کشمیر پر اٹھائی گئی آوازوں کو دبانا ہے، بھارت کے اس اقدام کی عالمی سطح پر مذمت ہونی چاہیے، بھارت کچھ بھی کر لے، حقائق سے نہیں بھاگ سکتا۔شیری رحمان نے کہا کہ بھارت نے پہلگام حملے کے بعد بلاجواز جارحیت کی، پاکستان نے ذمہ دارانہ انداز میں دفاع کیا، بھارت نے پوری جنگ کی بنیاد جھوٹ پر رکھی، جس کو آگے لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اگر بھارت نے پھر کسی مہم جوئی کی کوشش کی تو پاکستان موثر جواب دے گا، تاریخ اس کی گواہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی، لیکن اگر دوبارہ قومی خودمختاری پر حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بھارت میں

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا