شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی و دیگر امور پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف کی جاتی امرا میں صدر مسلم لیگ ن نواز شریف سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی، ملکی سلامتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اور نواز شریف کی ملاقات میں قومی یکجہتی کو قائم رکھنے کےلیے سیاسی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔
اس سے قبل نواز شریف نے سینیٹر عرفان صدیقی سے بھی ملاقات کی اس دوران ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے پیشہ ورانہ مہارت اور بھرپور عزم سے وطن کا دفاع کیا ہے، اللّٰہ کا شکر جس نے ہمیں اس امتحان میں سرخرو کیا۔
یوم تشکر کی تقریب میں شہداء کے لیے خصوصی دعا کروائی گئی، پاک فضائیہ کے شاہینوں کا فلائی پاسٹ کے ذریعے قوم کے عزم اور ولولے کو سلام پیش کیا۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے عوام کے جذبات کی بھرپور ترجمانی کرکے پاک بھارت جنگ میں مثبت اور توانا کردار ادا کیا ہے، قومی سلامتی کے لیے ہر قسم کی سیاسی تقسیم بھلا کر یک زبان ہونا خوش آئند اقدام ہے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام نے اپنی بہادر مسلح افواج کا حوصلہ بڑھایا، پاکستانی میڈیا نے سچ پر مبنی بیانیہ کو دنیا کے سامنے رکھ کر دشمن کے جھوٹ کو پوری قوت سے بے نقاب کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہباز شریف نواز شریف کا کہنا
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔