خیبر پختونخوا حکومت کا صوبے بھر میں پھل دار درختوں کی شجر کاری کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے بلبل، مینا، ہدہد اور دیگر نایاب پرندوں کی نسلوں کے خاتمے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پھلدار درختوں کی کمی کے باعث یہ پرندے صوبہ چھوڑ چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں پھلدار اور مقامی درختوں کی شجرکاری کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس حوالے میں تمام انتظامی سیکریٹریز، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو باقاعدہ مراسلہ جاری کردیا ہے۔ اپنے دفتر سے جاری بیان میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے بلبل، مینا، ہدہد اور دیگر نایاب پرندوں کی نسلوں کے خاتمے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پھلدار درختوں کی کمی کے باعث یہ پرندے صوبہ چھوڑ چکے ہیں۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے تمام سرکاری دفاتر، کالونیوں اور دیگر مقامات پر شجرکاری کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔
ہدایت کی گئی ہے کہ مون سون سیزن میں بھرپور شجرکاری مہم شروع کی جائے گی جس میں درمیانے قد کے مقامی پودوں کو ترجیح دی جائے گی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ تمام سرکاری محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی شجرکاری کی رپورٹ خود تیار کرکے جمع کرائیں۔ یہ مہم ''اپنی مدد آپ'' کے تحت چلائی جائے گی۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے تمام اداروں سے اس نیک اقدام میں فوری اور اجتماعی عمل درآمد کی اپیل کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے درختوں کی وزیر اعلی کہا ہے کہ
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔