ہر پاکستانی اپنی جاں نچھاور کرنے تیار ہے وہ اپنے پرچم کو جھکنے نہیں دیتا، ڈاکٹر عشرت العباد
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
ایک بیان میں سابق گورنر سندھ نے کہا کہ کئی ماہ سے ہم کہہ رہے تھے کہ ہمارے علاقائی حالات ایک نازک موڑ پر ہیں، دشمن کے ارادے جو پہلے پوشیدہ تھے اب کھلے عام ہیں، یہ وہ وقت ہے کہ جب ہر پاکستانی کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیئے، جب وقت آیا تو ہم نے ثابت کیا نہ ہم کمزور ہیں، نہ ہم میں بے اتفاقی ہے نہ ہم اپنے دشمن کو موقع دینے والے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق گورنر سندھ اور میری پہچان پاکستان کے روح رواں ڈاکٹر عشرت العباد خان نے یوم تشکر کے موقع پر پوری قوم اور افواج پاکستان کے آپریشن بنیان المرصوص کی شاندار کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن ہماری افواج کی قربانیوں حوصلے اور پیشہ وارانہ مہارت کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے، معرکہ حق میں دشمن کی بزدلانہ جارحیت کو ناکام بنا کر اسکی مصنوعی برتری کا طلسم توڑ دیا، ہماری خود مختاری، قومی وقار، اور آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ دریں اثنا مرکزی کمیٹی اور ٹاؤن کمیٹیز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ ہماری مسلح افواج دنیا کی وہ طاقت ہیں، جو صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ دلوں کے جزبے سے لڑتی ہیں، یہ فوج کسی الائنس، کسی سپر پاور کی محتاج نہیں، یہ فوج صرف اللہ پر بھروسہ کرتی ہیں اور اپنی قوم کی دعاں پر یقین رکھتی ہیں۔ اپنے اہم خطاب میں ڈاکٹر عشرت العباد خان نے پوری قوم کو مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا یہ منظر یہ لمحہ صرف تقریر کا موقع نہیں یہ وقت اپنے جزبات کو زبان دینے اور دنیا کو یہ بتانا مقصود ہے کہ پوری پاکستانی قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بھارتی جارحیت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ڈاکٹر عشرت العباد خان کا کہنا تھا کہ ہمارے دشمن نے سوچا کہ ہم اندر سے کمزور ہوچکے ہیں سیاسی اختلافات، معاشی مشکلات اور سوشل میڈیا پر چلنے والے پروپیگنڈوں سے ہمارے درمیان دراڑ ڈال دیں گے وہ یہ بھول گئے کہ یہ وہ سرزمین ہے جہاں پر ہر پاکستانی اپنی جاں نچھاور کرنے تیار ہے وہ اپنے پرچم کو جھکنے نہیں دیتا۔ انہوں نے باور کیا کہ کئی ماہ سے ہم کہہ رہے تھے کہ ہمارے علاقائی حالات ایک نازک موڑ پر ہیں، دشمن کے ارادے جو پہلے پوشیدہ تھے اب کھلے عام ہیں، یہ وہ وقت ہے کہ جب ہر پاکستانی کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیئے، جب وقت آیا تو ہم نے ثابت کیا نہ ہم کمزور ہیں، نہ ہم میں بے اتفاقی ہے نہ ہم اپنے دشمن کو موقع دینے والے ہیں۔
ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ ہماری افواج پاکستان نے دشمن کے ارادوں کو توڑ کر رکھ دیا، جب ہر پاکستانی نے کہا کہ میری پہچان پاکستان دنیا حیران رہ گئی کیا یہ وہی قوم ہے جسے ہم بکھرا ہوا سمجھ رہے تھے، ہماری افواج نے ہر مورچے پر، ہر جنگ میں ثابت کیا کہ اگر جذبہ زندہ ہو تو تو کسی بھی ٹیکنالوجی کا کوئی فائدہ نہیں۔ ڈاکٹر عشرت العباد نے یاد دلایا کہ 2019ء میں جب انڈیا نے پاکستان کی فضاؤں میں گھسنے کی کوشش کی تو ہماری فوج نے نہ صرف ایک جہاز گرایا بلکہ پوری دنیا کو پیغام دیا یہ پاکستان ہے یہ کوئی معمولی ملک نہیں، مودی نے اس وقت کہا اگر رافیل ہوتے تو ہم جیت جاتے آج انکے پاس رافیل ہیں تو کیا ہوا؟ کچھ بھی نہیں، جنگ ہتھیاروں سے نہیں ارداوں اور جزبہ ایمانی سے جیتی جاتی ہے، ہماری فوج کی صلاحیت، انکا ارادہ، انکی پروفیشنل ٹریننگ، اور ایمانی تعلق وہ اصلی قوت ہیں جو کسی بھی ٹیکنالوجی پر بھاری ہیں، ہر پاکستانی شاہین چاہے وہ جے ایف 17 میں ہو یا ٹینک کے اندر ایک ہی جزبہ لے کر چلتا ہے وطن کے لئے جینا ہے شہید ہونا ہے، دشمن کا اصلی چہرہ اب چھپا نہیں رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عشرت العباد ہر پاکستانی نے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب