قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی پاک فوج اور لائن آف کنٹرول پر بسنے والوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ایل او سی کے سیکٹر لیپہ ویلی پہنچ گئے۔

شاہد آفریدی نے یاد گار شہدا پر حاضری دی اور علاقہ مکینوں سے سے ملاقاتیں کیں، انہوں نے بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ و گولہ باری سے متاثرہ علاقوں سمیت تباہ شدہ رہائشی مکانات کا معائنہ کیا اور نمائشی میچ میں بھی حصہ لیا۔ اس موقع پر شاہد آفریدی نے پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے۔

یہ بھی پڑھیں شاہد آفریدی کا پاک فوج سے بھرپور اظہار یکجہتی، کراچی میں ’پاکستان زندہ‘ باد ریلی

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ کشمیر کے لوگ پیار، محبت اور امن والے ہیں، جو بھارتی جارحیت میں پاک فوج کے ساتھ کھڑے رہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستانی قوم کی طرف سے کشمیری عوام کا شکریہ ادا کرنے لیپہ سیکٹر آیا ہوں، بھارتی جارحیت کے دوران میڈیا کا مثبت کردار قابل تعریف ہے۔

شاہد آفریدی نے کہاکہ افواج پاکستان ہمیشہ امن کی خواہاں رہی ہیں، تاہم دفاع وطن میں اقدام اٹھانا مجبوری ہوتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کشمیر کا ٹیلنٹ قابل فخر ہے، لیکن بدقسمتی سے ضائع ہو رہا ہے جس کے لیے ہمیں توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر حکومت یہاں کرکٹ اکیڈمی قائم کرے تاکہ ٹیلنٹ ضائع ہونے سے بچ سکے۔

یہ بھی پڑھیں وزیر اعظم سے شاہد آفریدی کی ملاقات، آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر مبارکباد

شاہد آفریدی نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام آج بھی حق خودارادیت کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، وہ وقت دور نہیں جب کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع ہوگا، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم رکوائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ایل او سی سابق کرکٹر شاہد آفریدی لیپہ سیکٹر وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایل او سی سابق کرکٹر شاہد ا فریدی وی نیوز شاہد ا فریدی انہوں نے نے کہاکہ پاک فوج کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ