Express News:
2026-07-24@01:23:56 GMT

نریندر مودی کوسمجھ نہیں آ رہی جواب کس طرح دینا ہے

اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT

لاہور:

گروپ ایڈیٹر ایکسپریس ایاز خان کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے ساتھ جو پاکستان نے کی ہے وہ زخموں سے چور چور ہے، اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ جواب کس طرح سے دینا ہے، جب انھوں نے اتنا بڑا وفد بنایا دنیا میں جانے کے لیے دنیا کو بتانے کے لیے تو ششی تھرور ان کے ہیڈ تھے، یہ کسی دور میں بہت بڑا دانشور سمجھتا تھا اس شخص کو لیکن جنگ کے دوران جس طرح کے ٹویٹس آئے تو اس کی سارے قلعی کھل گئی۔ 

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپرٹس میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کے مقابلے میں سمجھتا ہوں کہ بلاول کو بنانا ہیڈ اس کا بہت اچھا فیصلہ ہے۔ 

تجزیہ کار فیصل حسین نے کہا کہ بات یہ ہے کہ یہ جو شکست ہوتی ہے نہ یہ یتیم ہوتی ہے، کہتے ہیں نہ کہ شکست یتیم ہوتی ہے اور فتح کے بہت باپ ہوتے ہیں، انڈیا کے ساتھ بالکل یہی معاملہ ہو رہا ہے، انڈیا اس وقت دنیا میں جو ہے تنہا ہوتا جا رہا ہے، انڈیا اس جنگ سے پہلے یا ان جنگی حالات سے پہلے جو جو ملک انڈیا کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے وہ انڈیا کے حالات کی وجہ سے شرمندہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ 

تجزیہ کار نوید حسین نے کہا کہ سب سے پہلے یہ کہ بھارت پاکستان کے خلاف سفارتی جنگ ابھی سے نہیں جب سے مودی آئیں ہیں انہوں نے یہ جنگ شروع کر رکھی ہے، 2016 کی ایک تقریر میں مودی نے کہا تھا کہ میں پاکستان کو دنیا میں تنہا کروں گا خصوصاً جو ان کا منترا ہے اسی کو لیکر یہ کہا تھا تب سے ہم نے دیکھا کہ انڈیا نے تسلسل سے یہی پالیسی پکڑی ہوئی ہے۔ 

تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا کہ پرائم منسٹر شہباز شریف نے سب سے پہلے ایک آفر کی کاکول میں کہ آپ اس کی انوسٹیگیشن کرا لیں غیر جانبدارانہ دنیا بھر میں جس سے مرضی چاہے کرا لیں، وہاں سے ہماری سفارت کاری کا عمل شروع ہوا، انڈیا دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا، جو سب سے بڑا ان کا ٹرمپ کارڈ تھا یعنی پریذیڈنٹ ٹرمپ وہ ان ہی کے گلے پڑ گئے۔

تجزیہ کار محمد الیاس نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کو ساتھ لے لیتی تو کوئی مسئلہ نہیں تھا، تمام پاکستانیوں کو اب ایگریسیو پالیسی اپنانا پڑے گی، ڈپلومیٹس کوا پنی سطح پر، وزرا کو اپنی سطح پر، جو اوورسیز پاکستانی ہیں ان کو بھی بتانا پڑے گا کہ مودی کا اقلیتوں کے بارے میں کیا رویہ ہوتا ہے اور کس طرح ان مارا جاتا ہے، جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی دوسری طرف آگئی ہے کیونکہ ایک محاذ اگر اس کا نقصان ہوا ہے تو وہ دوسری طرف آ گیا ہے، اب یہ پاکستان کے خلاف کھلی دہشت گردی پر اتر آیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تجزیہ کار نے کہا کہ دنیا میں سے پہلے

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف