( اورنگی اور کورنگی میں واقعات ) ڈکیتی مزاحمت پر 2 نوجوان قتل، شہری کی فائرنگ سے ڈاکو ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
جوس سینٹر کے ملازم نے ڈاکوؤں کے سامنے مزاحمت کی جس پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کر دی
رواں سال اب تک ایسی وارداتوں میں 45 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،پولیس رپورٹ
شہر قائد میں ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران مزاحمت پر شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ نہ رک سکا۔ اورنگی ٹاؤن اور کورنگی میں پیش آنے والے دو الگ الگ واقعات میں دو نوجوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ پولیس کے مطابق رواں سال اب تک ایسی وارداتوں میں 45 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔پولیس کے مطابق پہلا واقعہ اورنگی ٹاؤن کے علاقے ڈسکو موڑ کے قریب پیش آیا، جہاں جوس سینٹر پر ڈکیتی کی کوشش کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 20 سالہ عابد جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق مقتول کو زخمی حالت میں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، مگر اہل خانہ اور دکان کے مالک کے مطابق اسپتال میں بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث عابد جانبر نہ ہو سکا۔واردات کے دوران دکان میں موجود ایک شہری نے فائرنگ کرکے ایک ڈاکو کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا، جس کی شناخت محمد عدنان علی کے نام سے ہوئی، جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد کرلی ہے۔دوسرا افسوسناک واقعہ کورنگی میں پیش آیا، جہاں 30 سالہ فیصل محمود کو بچوں کو اسکول سے لینے کے لیے جاتے ہوئے ڈکیتی کی واردات میں مزاحمت پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق گولی نوجوان کی آنکھ میں لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔ فیصل ایک مقامی مسجد کے موذن کا بیٹا تھا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فیصل موقع پر تڑپتا رہا، مگر ڈاکو موٹر سائیکل لیکر فرار ہو گئے۔ پولیس نے ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارنے کا دعویٰ کیا ہے اور شہر میں موٹر سائیکل چھیننے والے گروہوں کی دوبارہ سرگرمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پولیس کے مطابق
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔