UrduPoint:
2026-06-03@06:28:41 GMT

جرمنی میں تخریب کاری کی روسی سازش: مقدمے کی سماعت شروع

اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT

جرمنی میں تخریب کاری کی روسی سازش: مقدمے کی سماعت شروع

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 20 مئی 2025ء) روس کے لیے جاسوسی کے الزام میں تین افراد کے خلاف مقدمے کی سماعت جرمنی کے جنوبی شہر میونخ کی ایک علاقائی عدالت میں منگل کے روز سے شروع ہو رہی ہے۔

تینوں افراد جرمنی اور روس کی دوہری شہریت رکھتے ہیں، جن پر جرمنی میں فوجی انفراسٹرکچر اور ریلوے لائنوں کے خلاف تخریب کاری کی منصوبہ بندی کرنے کا بھی الزام ہے۔

پولیس نے پہلے ان میں سے دو کو گزشتہ سال باویریا میں گرفتار کیا تھا، جن کی شناخت* ڈائیٹر ایس اور الیگزینڈر جے کے طور پر کی گئی تھی۔ بعد میں تیسرے مدعا علیہ الیکس ڈی کو الگ سے گرفتار کیا گیا۔

جرمنی: تخریب کاری کی منصوبہ بندی، تین یوکرینی مشتبہ افراد گرفتار

اس کیس کا مرکزی ملزم ڈائیٹر ایس ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تخریب کاری کی سازشوں کا مرکزی ملزم ہے، جبکہ دیگر دو پر الزام ہے کہ انہوں نے اس کی مدد کی تھی۔

(جاری ہے)

استغاثہ نے ڈائیٹر ایس پر 2014 اور 2016 کے درمیان مشرقی یوکرین میں ایک روسی نواز ملیشیا سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے، "غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کی رکنیت" کا الزام عائد کیا ہے۔

استغاثہ کے مطابق اسی دوران ملزم روسی انٹیلیجنس سروسز سے بھی رابطے میں تھا۔

مقدمے کی سماعت منگل کو میونخ کی اعلیٰ علاقائی عدالت میں مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے شروع ہوئی۔

اس مقدمے کے دسمبر تک چلنے کی توقع ہے، جس میں 40 سے زیادہ سماعتیں مقرر کی گئی ہیں۔

ایسٹر پر روس کی طرف سے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان

ملزمین سے ایک شخص کو سوئٹزرلینڈ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جرمنی کے وفاقی پراسیکیوٹرز کے بیان میں کہا گیا تھا کہ گرفتار شدگان پر شبہ ہے کہ وہ سبوتاژ یا تخریب کاری کے لیے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے تھے اور یہ سنگین آتش زنی کے لیے دھماکہ خیز مواد حاصل کرنا چاہتے تھے۔

جرمن سکیورٹی حکام نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ روس یورپ کے لوجسٹک ڈپو سے امریکہ جانے والی کارگو پروازوں میں دھماکوں کی سازش کے لیے ٹیسٹ کے طور پر دھماکہ خیز پارسلز کا تجربہ کیا جا رہا تھا۔ روس نے تاہم ان الزامات کی تردید کی ہے۔

بیلفیلڈ میں حملہ کرنے والے ملزم کی گرفتاری

جرمنی کے مغربی شہر بیلفیلڈ کی پولیس نے بتایا ہے کہ انہوں نے اس مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے چاقو کے حملے میں بار کے باہر متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس حکام اتوار کی صبح سے ہی مشتبہ شخص کی تلاش کر رہے تھے، جس کی شناخت انہوں نے ایک 35 سالہ شامی شخص کے طور پر کی تھی۔

روس سے معاہدے سے پہلے ٹرمپ یوکرین کا دورہ کریں، زیلنسکی

بیلفیلڈ میں تفتیش کاروں کے مطابق اس مشتبہ شخص نے شہر کے مرکز میں ایک معروف بار کے باہر ایک تیز دھار چیز سے حملہ کیا، جس کے سبب فرار ہونے سے پہلے کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس نے بتایا کہ مشتبہ شخص اپنے پیچھے ایک بیگ چھوڑ گیا، جس میں ذاتی دستاویزات اور ایک بوتل تھی، جس میں ایک ایسا مائع تھا جس سے پٹرول کی بو آ رہی تھی۔

روسی حکومت یوکرین امن معاہدے کو سبوتاژ کر رہی ہے، نیٹو

اس حملے سے یہ قیاس آرائیاں کی گئیں کہ مشتبہ شخص نے بے ساختہ کام نہیں کیا بلکہ اس نے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

پولیس نے کہا کہ وہ اس بارے میں منگل کے روز ہی مزید معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

ادارت: جاوید اختر

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تخریب کاری کی پولیس نے کے لیے

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی