عظمیٰ بخاری نے سینیٹر فیصل واوڈا کو ذہنی مریض اور ’سستا شاہ رُخ‘ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
کولاج بشکریہ سوشل میڈیا
وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سینیٹر فیصل واوڈا کو ذہنی مریض اور ’سستا شاہ رخ‘ قرار دے دیا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی توجہ گزشتہ روز سینئر صحافی حامد میر کے شو ’کیپٹل ٹاک‘ میں سینیٹر فیصل واوڈا کی جانب سے دیے گئے ایک بیان کی طرف دلائی۔
اس پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وہ کون ہے؟ وہ دراصل ذہنی مریض ہے، وہ سستا شاہ رُخ خان ہے، ابھی تو وہ سینیٹر ہے، اس کی کوئی سیاسی پارٹی نہیں، ایسے شخص کی حالت پر رحم ہی کھایا جا سکتا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس کے دوران سینئر صحافی نجم سیٹھی کے تجزیوں کے حوالے سے کہا کہ نجم سیٹھی کی چڑیا بوڑھی ہو کر ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔