لیاری یونیورسٹی میں بے ضابطگیاں: اسسٹنٹ پروفیسر کی ڈگری جعلی، اعلیٰ افسر پر ہراسانی کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
بےنظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے اسسٹنٹ پروفیسر غلام مرتضیٰ کی پی ایچ ڈی کی سند جعلی ہونے کے انکشاف کے بعد جامعہ نے ان کی تنزلی کے احکامات جاری کر دیے۔
علاوازیں غلام مرتضیٰ کے خلاف دھوکا دہی اور لاکھوں روپے وصول کرنے پر برطرفی کی کارروائی بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
دوسری جانب لیاری یونیورسٹی نے اکاؤنٹ افسر عبدالرشید ملاح کو ہراسانی کے الزام میں معطل کرکے تاحکم ثانی ان کے کیمپس میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔
کراچی بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں 3برس.
لیاری یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں تعینات اسسٹنٹ پروفیسر غلام مرتضیٰ کی پی ایچ ڈی کی سند جعلی ثابت ہونے کے بعد رجسٹرار جامعہ لیاری نے انہیں خط بھیجا جس میں کہا گیا کہ آپ کی جانب سے یونیورسٹی میں جمع کروائی جانے والی ڈگری ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق کے بعد جعلی قرار دی گئی ہے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ اسی ڈگری کے حوالے سے آپ نے ناصرف مالی فوائد حاصل کیے بلکہ لیکچرار سے اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر ترقی بھی حاصل کر لی۔ لہٰذا آپ رجسٹرار کے پاس پیش ہوں اور بتائیں کہ آپ کے خلاف کیوں تادیبی کارروائی نہ کی جائے اور آپ سے مالی فوائد کی واپسی کےلیے اقدامات کیوں نہ کیے جائیں۔
بعدازاں ان کی لیکچرر کے عہدے پر تنزلی کے احکامات جاری کرکے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب اکاؤنٹ افسر عبدالرشید ملاح کو ہراسانی کے الزام میں معطلی کا فیصلہ پیر کی صبح لیاری یونیورسٹی کی منعقدہ سینڈیکیٹ کے اجلاس میں کیا گیا۔
عبدالرشید ملاح پر ایک طالبہ کو موبائل فون ایپ کے ذریعے میسجز پر ہراساں کرنے کا الزام تھا جس کی باقاعدہ شکایت متعلقہ طالبہ کی جانب سے کی گئی تھی۔
دریں اثنا لیاری یونیورسٹی میں حال ہی میں سینڈیکیٹ الیکشن میں بےضابطگیاں بھی سامنے آئی ہیں جس میں انتظامیہ نے عدالت کے حکم پر ترقی پانے والے 17 گریڈ کے کسی افسر کو بھی الیکشن میں حصہ لینے نہیں دیا۔
رجسٹرار کی جانب سے پہلے اہل افسران کی جو لسٹ جاری کی گئی اس میں وقار حسین لغاری، عبد الحفیظ، محمد منصور نیاز، عاشق علی سیلرو، عاصم قادری، حسن آصف، ثمینہ محسن اور ڈاکٹر شاہدہ شاہ شامل تھے۔
بعدازاں رجسٹرار کی جاری ووٹر لسٹ میں کچھ نئے نام بھی شامل کردیے گئے جن میں میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر فنانس واجہ کہف کریم داد کا نام بھی شامل تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لیاری یونیورسٹی اسسٹنٹ پروفیسر یونیورسٹی میں
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔