اسٹیبلشمنٹ جب چاہے بانی پی ٹی آئی بات کرنے کیلئے تیار ہیں، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے بانی اور سابق وزیر اعظم کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ جب چاہے عمران خان بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔
منگل کے روز بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے آرمی چیف عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا عہدہ ملنے کے حوالے سے بات کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ ’ ہم اس حوالے سے کچھ نہ بولیں تو یہی اچھا ہے۔‘
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی کا پیغام ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے پاکستان کیلئے بات کرنے کیلئے تیار ہوں البتہ وہ ن لیگ کے ساتھ کسی صورت بات نہیں کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ بانی نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد انصاف دفن ہوچکا اور انہوں نے آئینی ترمیم کیخلاف آواز اٹھانے کا بھی کہا ہے۔
سلمان اکرم راجہ کی گفتگو
دوسری جانب پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اچھی رہی اور ان کی صحت بلکل ٹھیک ہے جبکہ ہم قومی یکجہتی کیلئے اپنا حصہ ڈالنے کیلئے تیار ہیں۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا بانی نے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت اندرونی اتحاد کی ضرورت ہے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے شکست کھائی ہے اس لیے وہ کوئی اور شرارت کر سکتا ہے، پوری قوم کو متحد ہوکر دشمن کا مقابلہ کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معیشت کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمیں متحد ہو کر کام کرنا ہے اور دو تہائی اکثریت والی پارٹی کے لیڈر کو باہر نہ لاکر اتحاد پیدا نہیں ہوسکتا۔
سلمان اکرم کا مزید کہنا تھا کہ احتجاجی تحریک ہمارا حق ہے لیکن اس حوالے سے کوئی حتمی بات ابھی نہیں ہوئی،6 چھ مئی کو جیل میں بریفنگ سے متعلق بانی نے کوئی بات نہیں کی۔
مزیدپڑھیں:ویسٹ ایشیا بیس بال کپ: بھارت کو شکست دیکر پاکستان فائنل میں پہنچ گیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی کیلئے تیار سلمان اکرم علیمہ خان حوالے سے بات کرنے کہنا تھا کا کہنا نے کہا
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔