ملتان، علامہ غضنفر علی حیدری شیعہ علماء کونسل ملتان کے بلامقابلہ ضلعی صدر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
صوبائی صدر ڈاکٹر علامہ سید عامر عباس ہمدانی نے حلف لیا، اجلاس میں صوبائی سیکرٹری جنرل شیعہ علما کونسل جنوبی پنجاب سید نئیر عباس شاہ کاظمی ایڈووکیٹ، سابق صوبائی آرگنائزر مولانا غلام شبیر حیدری، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان مصور عباس نقوی، سینیئر نائب صدر شیعہ علما کونسل جنوبی پنجاب مبشر حسن بھٹہ اور دیگر شریک تھے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ علما کونسل پاکستان ضلع ملتان کا اجلاس جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ سورج میانی ملتان میں منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں یونٹس صدور اور نمائندگان نے شرکت کی، اجلاس میں بزرگ عالم دین پرنسپل جامعة العباس ڈاکٹر علامہ غضفنر علی حیدری کو متفقہ طور پر بلامقابلہ شیعہ علماء کونسل ضلع ملتان کا نیا صدر منتخب کر لیا گیا، صوبائی صدر ڈاکٹر علامہ سید عامر عباس ہمدانی نے حلف لیا، اجلاس میں صوبائی سیکرٹری جنرل شیعہ علما کونسل جنوبی پنجاب سید نئیر عباس شاہ کاظمی ایڈووکیٹ، سابق صوبائی آرگنائزر مولانا غلام شبیر حیدری، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان مصور عباس نقوی، سینیئر نائب صدر شیعہ علما کونسل جنوبی پنجاب مبشر حسن بھٹہ، مولانا کاشف ظہور نقوی، تجمل عباس مہدی، مشتاق حسین ساقی، غلام عباس انقلابی، سید سبطین حسین نقوی، سابقہ ضلعی صدر شیعہ علما کونسل ملتان مولانا اعجاز حسین بہشتی نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی سیکرٹری جنرل سید نئیر عباس کاظمی ایڈووکیٹ، مولانا غلام شبیر حیدری سابق آرگنائزر شیعہ علماکونسل جنوبی پنجاب اور تجمل عباس مہدی نے اظہار خیال کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔