اسلام آباد(اپنے سٹاف رپورٹر سے) سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اور خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ رابطوں سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔کسی خاکی، کسی نوری، کسی ناری نے بانی پی ٹی آئی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے پس پردہ مذاکرات یا ڈیل کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے راہنماؤں کے مقدمات تو سپریم کورٹ سے شروع ہوتے اور وہیں ختم ہوجاتے تھے، نہ اپیل ہوتی تھی نہ کوئی دلیل سنی جاتی تھی۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں ہمارے خلاف بنائے جانے والے مقدمات کی نوعیت انتقامی تھی جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔ ہم نے کسی کو منشیات یا کرایہ داری جیسے جھوٹے مقدمات میں پکڑا ہے، نہ ہتھکڑیاں ڈالی ہیں، نہ جیلوں میں ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری مشق جاری ہے، تمام ادارے اپنا کام کر رہے ہیں، کسی شخص کے جیل میں ہونے سے کوئی سیاسی عدم استحکام نہیں آتا۔ ہم نے نام نہاد سیاسی عدم استحکام کے باوجود اپنی معیشت کو بھی سنبھالا ہے اور اپنی تاریخ کی سب سے بڑی فتح بھی حاصل کی ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کسی ایک شخص کو عدالتی عمل کے بغیر  رہا کر دیا جاتا ہے تو ہمیں باقی 90 ہزار قیدیوں کا بھی سوچنا ہوگا۔ پی ٹی ائی کے منفی پروپیگنڈے کے باوجود چیف آف ارمی سٹاف کا قد بہت بلند ہو گیا ہے۔پی ٹی آئی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صدر ٹرمپ، آئی ایم ایف یا کوئی اور ادارہ ان کی مدد کے لیے تیار نہیں۔10 مئی کے بعد سے ملک کا سیاسی اور عالمی منظر نامہ بدل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کا آئینی طریقہ کار پہلی بار عمران خان کی حکومت کو نکالنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس ایوان نے عمران خان پر اعتماد کیا تھا اسی ایوان نے ان پر عدم اعتماد کیا اور ان کی حکومت چلی گئی۔ اگر پی ٹی آئی عددی تعداد پوری کر لیتی ہے تو ہم خندہ پیشانی سے اس کا مقابلہ کریں گے۔ ہم آئین اور قانون کی پاسداری کریں گے اور کوئی بھی غیر آئینی اقدام نہیں اٹھائیں گے۔ ہمارے پاس کوئی قاسم سوری نہیں، ہم قومی اسمبلی بھی نہیں توڑیں گے۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ عدم اعتماد کا خواب، پی ٹی آئی کے بہت سے خوابوں کی مانند ایک اور خواب ہے۔ پاکستان آگے بڑھ رہا ہے، قومی سلامتی سمیت تمام حوالوں سے پاکستان مستحکم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا بانی پی ٹی ا ئی نے کہا کہ

پڑھیں:

ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات

واشنگٹن:

امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔

سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔

بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔

ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔

روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے