بانی پی ٹی آئی کیساتھ رابطوں سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اسلام آباد(اپنے سٹاف رپورٹر سے) سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اور خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ رابطوں سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔کسی خاکی، کسی نوری، کسی ناری نے بانی پی ٹی آئی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے پس پردہ مذاکرات یا ڈیل کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے راہنماؤں کے مقدمات تو سپریم کورٹ سے شروع ہوتے اور وہیں ختم ہوجاتے تھے، نہ اپیل ہوتی تھی نہ کوئی دلیل سنی جاتی تھی۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں ہمارے خلاف بنائے جانے والے مقدمات کی نوعیت انتقامی تھی جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔ ہم نے کسی کو منشیات یا کرایہ داری جیسے جھوٹے مقدمات میں پکڑا ہے، نہ ہتھکڑیاں ڈالی ہیں، نہ جیلوں میں ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری مشق جاری ہے، تمام ادارے اپنا کام کر رہے ہیں، کسی شخص کے جیل میں ہونے سے کوئی سیاسی عدم استحکام نہیں آتا۔ ہم نے نام نہاد سیاسی عدم استحکام کے باوجود اپنی معیشت کو بھی سنبھالا ہے اور اپنی تاریخ کی سب سے بڑی فتح بھی حاصل کی ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کسی ایک شخص کو عدالتی عمل کے بغیر رہا کر دیا جاتا ہے تو ہمیں باقی 90 ہزار قیدیوں کا بھی سوچنا ہوگا۔ پی ٹی ائی کے منفی پروپیگنڈے کے باوجود چیف آف ارمی سٹاف کا قد بہت بلند ہو گیا ہے۔پی ٹی آئی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صدر ٹرمپ، آئی ایم ایف یا کوئی اور ادارہ ان کی مدد کے لیے تیار نہیں۔10 مئی کے بعد سے ملک کا سیاسی اور عالمی منظر نامہ بدل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کا آئینی طریقہ کار پہلی بار عمران خان کی حکومت کو نکالنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس ایوان نے عمران خان پر اعتماد کیا تھا اسی ایوان نے ان پر عدم اعتماد کیا اور ان کی حکومت چلی گئی۔ اگر پی ٹی آئی عددی تعداد پوری کر لیتی ہے تو ہم خندہ پیشانی سے اس کا مقابلہ کریں گے۔ ہم آئین اور قانون کی پاسداری کریں گے اور کوئی بھی غیر آئینی اقدام نہیں اٹھائیں گے۔ ہمارے پاس کوئی قاسم سوری نہیں، ہم قومی اسمبلی بھی نہیں توڑیں گے۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ عدم اعتماد کا خواب، پی ٹی آئی کے بہت سے خوابوں کی مانند ایک اور خواب ہے۔ پاکستان آگے بڑھ رہا ہے، قومی سلامتی سمیت تمام حوالوں سے پاکستان مستحکم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا بانی پی ٹی ا ئی نے کہا کہ
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎