سردار لطیف کھوسہ کی زندگی کا وہ لمحہ جس نے انکی زندگی بدل دی
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
پاکستانی سینئر وکیل، سیاستدان اور سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ نے اپنی زندگی اس غمگین لمحے سے پردہ اُٹھا دیا جس نے ان کی زندگی بدل دی۔
حال ہی میں سابق گورنر پنجاب نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بطور مہمان شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پہلی بار اپنے جواں سال بیٹے کی موت کا المناک واقعہ سنایا۔
دوران انٹرویو جب ان سے سوال کیا گیا کہ ان کی زندگی کا غمگین لمحہ کونسا ہے تو انہوں نے اپنے نوجوان بیٹے کی ناگہانی موت کا قصہ سنایا۔
پاکستان پیپلزپارٹی فرانس کے صدر چوہدری.
انہوں نے اپنے مرحوم بیٹے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ تھا جب میں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو کھو دیا، وہ صرف 16 سال کا تھا، کالج میں پڑھتا تھا۔ ایک حادثے میں اس کا انتقال ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس کے ساتھ ہمیشہ ڈرائیور کو بھیجتے تھے لیکن اس دن اس نے ڈرائیور سے گاڑی خود چلانے کیلئے لے لی اور اس کی گاڑی حادثے کا شکار ہوگئی۔
سردار لطیف کھوسہ نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 17 دن تک وہ وینٹی لیٹر پر رہا، ملک کے بہترین سرجن اس کے علاج کےلیے موجود تھے لیکن انہوں نے بھی یہی کہا کہ اس کی دماغی طور پر موت ہوگئی ہے، اسے وینٹی لیٹر پر رکھ کر اس کی تکلیف میں اضافہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس وقت وہ اس دنیا سے گیا اس کے بعد مادی چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔
میزبان کے ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ بیٹے کی موت نے زندگی کا نظریہ بدل دیا اس دن احساس ہوگیا کہ کچھ بھی باقی نہیں رہے گا سب ایک نہ ایک دن ختم ہوجائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کی زندگی انہوں نے بیٹے کی کہا کہ
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ