Daily Sub News:
2026-06-03@06:39:02 GMT

پاکستان میں نوجوان نسل اور سگریٹ نوشی

اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT

پاکستان میں نوجوان نسل اور سگریٹ نوشی

پاکستان میں نوجوان نسل اور سگریٹ نوشی WhatsAppFacebookTwitter 0 21 May, 2025 سب نیوز

تحریر: جاریہ زہرہ

حالیہ برسوں میں پاکستان میں نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جو عمل کبھی بڑی عمر کے افراد کا شوق سمجھا جاتا تھا، وہ اب نوجوانوں اور حتیٰ کہ کم عمر طلبہ و طالبات میں بھی تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے کیمپس سے لے کر چائے کے ہوٹلوں، انسٹاگرام اسٹوریز، اور رات گئے کی محفلوں تک، سگریٹ نوشی (چاہے وہ سگریٹ ہو، شیشہ ہو، یا ویپ) نوجوانوں کی زندگی کا ایک حصہ بن چکی ہے۔ یہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی چیلنج بھی ہے، جو ہمارے معاشرے میں موجود گہرے نفسیاتی، ثقافتی اور قانونی خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایک بڑھتی ہوئی وباء

پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل کے مطابق ملک میں تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ افراد تمباکو کسی نہ کسی شکل میں استعمال کرتے ہیں، اور ان میں بڑی تعداد 15 سے 29 سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ گلوبل یوتھ ٹوبیکو سروے (GYTS) کے مطابق سکول جانے والے بچوں میں بھی سگریٹ نوشی کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اگرچہ لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے، لیکن لڑکیوں میں بھی یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

یہ اضافہ صرف روایتی سگریٹ نوشی تک محدود نہیں۔ بڑے شہروں میں شیشہ کیفے عام ہو چکے ہیں، جہاں فلیورڈ تمباکو ایک ایسے انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے کم نقصان دہ محسوس ہوتا ہے۔ اسی طرح ویپنگ اور ای سگریٹس کو “محفوظ متبادل” کے طور پر مارکیٹ کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں ان میں بھی نکوٹین اور دیگر مضر صحت کیمیکل موجود ہوتے ہیں۔

وجوہات: صرف فیشن نہیں، ایک نفسیاتی کشمکش

نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ رجحان اکثر ایک فیشن، سٹیٹس یا ’کول‘ بننے کے طریقے کے طور پر اپنایا جاتا ہے۔ نوجوان جب خود کو بڑے ہوتے ہوئے محسوس کرتے ہیں تو وہ ایسی عادتیں اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جو انہیں “بالغ” یا آزاد ظاہر کریں۔

دوسری اہم وجہ ذہنی دباؤ، امتحانی تناؤ، خاندانی مسائل یا کسی ذاتی بحران سے نمٹنے کی ناکام کوشش ہو سکتی ہے۔ تمباکو کا وقتی سکون نوجوانوں کو وقتی طور پر آرام دیتا ہے، مگر طویل المدتی نتائج نہایت خطرناک ہوتے ہیں۔ کئی نوجوان مشہور شخصیات کی نقل میں سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں، خاص طور پر جب فلموں، ڈراموں یا سوشل میڈیا پر تمباکو نوشی کو ’اسٹائلش‘ بنا کر دکھایا جاتا ہے۔

خاندان اور تعلیمی اداروں کا کردار

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں والدین اور اساتذہ کی جانب سے اس مسئلے پر کھل کر بات نہیں کی جاتی۔ اکثر والدین اپنی اولاد کی عادات سے ناواقف ہوتے ہیں یا ان سے دوستی کے بجائے فاصلہ رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے نوجوان اپنے مسائل اور الجھنیں کسی اور انداز میں نکالتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی تمباکو نوشی کے خلاف کوئی مؤثر آگاہی پروگرام نظر نہیں آتے، اور بعض جگہوں پر اساتذہ خود سگریٹ نوشی کرتے ہیں، جس سے ایک دوہرا معیار جنم لیتا ہے۔

قانونی کمزوری اور عمل درآمد کی کمی

اگرچہ پاکستان میں پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی ہے اور تمباکو کی تشہیر کے خلاف بھی قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد بہت کمزور ہے۔ دکان دار بلاخوف کم عمر لڑکوں کو سگریٹ بیچ دیتے ہیں۔ شیشہ کیفے اور ویپنگ شاپس اکثر رہائشی علاقوں میں کھلی ہوتی ہیں، جہاں کوئی نگرانی یا قانونی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہوتا۔ کئی بار ایسے کیفے پولیس کی سرپرستی میں بھی چلتے ہیں۔

سوشل میڈیا کا اثر

سوشل میڈیا نے بھی اس رجحان کو بڑھاوا دیا ہے۔ نوجوان جب سوشل میڈیا پر اپنے دوستوں، انفلوئنسرز، یا مشہور شخصیات کو سگریٹ پیتے دیکھتے ہیں، تو وہ خود کو پیچھے محسوس کرتے ہیں۔ ایسے ویڈیوز اور تصاویر جہاں سگریٹ یا شیشہ پینا ’کول‘ یا ’فن‘ سمجھا جاتا ہے، وہ براہِ راست نوجوانوں کو متاثر کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی ایسے مواد کے خلاف مؤثر مانیٹرنگ نہیں ہو رہی۔

صحت پر تباہ کن اثرات

طبی ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی صرف پھیپھڑوں کی بیماریوں، دل کے امراض اور کینسر کا سبب نہیں بنتی بلکہ نوجوانوں میں دماغی کمزوری، توجہ کی کمی، نیند کی خرابی اور ذہنی دباؤ کا باعث بھی بنتی ہے۔ نکوٹین ایک نشہ آور مادہ ہے جو دماغ پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔ نوجوان جب اس کا عادی بن جاتے ہیں تو وہ پڑھائی، کریئر اور ذاتی زندگی میں پیچھے رہنے لگتے ہیں۔

حل کیا ہے؟

سگریٹ نوشی کے بڑھتے رجحان کو روکنے کے لیے صرف قانون سازی کافی نہیں، بلکہ ایک مکمل سماجی، تعلیمی اور نفسیاتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد سے دوستی کا رشتہ قائم کریں، ان کے مسائل سنیں اور انہیں درست و غلط میں فرق سکھائیں۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ تمباکو نوشی کے خلاف باقاعدہ آگاہی پروگرام چلائیں، اور ساتھ ہی طلبہ کی ذہنی صحت پر بھی توجہ دیں۔

میڈیا، خاص طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، کو چاہیے کہ وہ تمباکو نوشی کو بڑھاوا دینے والے مواد پر کنٹرول کریں اور مثبت طرزِ زندگی کو فروغ دیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف قوانین سخت کرے بلکہ ان پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنائے۔ عوامی جگہوں، کالجوں اور کیفے جیسے مقامات پر چیکنگ کا نظام وضع کیا جائے، اور تمباکو مصنوعات کی فروخت پر عمر کی حد کو سختی سے لاگو کیا جائے۔

سگریٹ نوشی ایک بیماری ہے، مگراس سے بھی بڑھ کر یہ ایک سماجی بحران بنتا جا رہا ہے جو ہماری نوجوان نسل کی صحت، ذہن، اور مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو ایک پوری نسل ذہنی و جسمانی کمزوریوں کا شکار ہو کر ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور والدین، اساتذہ، پالیسی ساز، اور معاشرہ ایک اجتماعی شعور کے ساتھ اس مسئلے کا سامنا کریں۔ نوجوانوں کو صرف سگریٹ سے نہیں، بلکہ اس کے پیچھے چھپی مایوسی، اضطراب، اور غلط ترجیحات سے بھی بچانا ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجوہری ممالک کے درمیان جنگ ہوئی تو نتائج پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے: بلاول بھٹو پاکستان میں نوجوان نسل اور سگریٹ نوشی اور ابابیل واپس آ گئے عنوان: پاکستان میں اقلیتی برادریوں کا کردار اور درپیش چیلنجز دھوکہ دہی کی بازگشت: یو ایس ایس لبرٹی 1967 سے پہلگام 2025 تک ڈوبتی انسانیت: مودی حکومت کے ظلم و بربریت کا ایک اور داستان قصابوں کا اتحاد TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پاکستان میں نوجوان تمباکو نوشی نوجوان نسل سگریٹ نوشی سوشل میڈیا کرتے ہیں جاتا ہے میں بھی نوشی کے کے خلاف رہا ہے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار