بلوچستان یوتھ ایمپاورمنٹ اینڈ انگیجمنٹ انیشیٹو کی اسناد تقسیم کی تقریب
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
کوئٹہ(نیوز ڈیسک) کوئٹہ میں بلوچستان یوتھ ایمپاورمنٹ اینڈ انگیجمنٹ انیشیٹو کے تحت تقسیم اسناد اور انعامات کی تقریب منعقد ہوئی۔
تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی تھے۔
وزیر اعلٰی نے ہونہار طلباء و طالبات کو ہنر مندی اور جدت پر مبنی تربیت مکمل کرنے پر اعزازات سے نوازا۔
اس موقع پر پروگرام میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے 46 طلباء میں لیپ ٹاپس تقسیم کیے گئے، جبکہ تربیت حاصل کرنے والوں کو سرٹیفیکیشنز سے نوازا گیا۔
خصوصی بات یہ رہی کہ ملک کی نامور سافٹ ویئر کمپنیوں نے اس پروگرام میں تربیت حاصل کر نے والے 50 طلباء کے لیے نوکریوں اور انٹرن شپس کا اعلان کیا۔
اس پروگرام میں اب تک بلوچستان بھر سے 6000 سے زائد نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت دی جا چکی ہے۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد بلوچستان کے نوجوانوں کو ہنر مند بنانا، روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور انہیں معاشی طور پر خود کفیل بنانا تھا۔
یہ انیشیٹو نہ صرف نوجوانوں کے لیے نئے دروازے کھول رہا ہے بلکہ بلوچستان کی معاشی و سماجی ترقی کا بھی ضامن بن رہا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔